Table of Contents
شام میں عوامی بغاوت کے آغاز کو آج 15 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
15 مارچ 2011 کو ملک کے مختلف شہروں میں مظاہروں سے شروع ہونے والی تحریک بالآخر دسمبر 2024 میں سابق صدر Bashar al‑Assad کی حکومت کے خاتمے پر منتج ہوئی۔
اس تاریخی دن کی یاد میں اتوار کو پورے ملک میں تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔
بغاوت کیسے شروع ہوئی؟
2011 میں
Daraa
میں چند کم عمر لڑکوں کی گرفتاری اور تشدد کی خبر کے بعد عوامی غصہ بھڑک اٹھا۔ ان نوجوانوں کو حکومت مخالف نعرے دیواروں پر لکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
جلد ہی احتجاج
Damascus
اور
Aleppo
سمیت کئی شہروں تک پھیل گیا۔
یہ وہی دور تھا جب خطے میں
Arab Spring
کی لہر چل رہی تھی۔
جب مظاہرین نے سیاسی اصلاحات اور قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تو اسد حکومت نے طاقت کا استعمال شروع کیا، جس کے بعد ملک خانہ جنگی میں چلا گیا۔
خانہ جنگی اور تباہی
جولائی 2011 میں باغی فوجیوں نے
Free Syrian Army
قائم کی۔
بعد میں متعدد مسلح گروہ اور بیرونی طاقتیں بھی اس جنگ میں شامل ہو گئیں۔
14 سالہ جنگ میں لاکھوں افراد مارے گئے اور کروڑوں لوگ بے گھر ہوئے۔
اسد حکومت کا خاتمہ
دسمبر 2024 میں
Hayat Tahrir al‑Sham
نے اچانک ایک بڑا حملہ کیا جس کے نتیجے میں بشار الاسد اقتدار چھوڑ کر روس فرار ہو گئے۔
اس کے بعد تنظیم کے سابق رہنما
Ahmed al‑Sharaa
کو شام کا صدر مقرر کیا گیا، جنہوں نے تباہ حال ریاست کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوششیں شروع کیں۔
عالمی سطح پر قبولیت
سیاسی مبصرین کے مطابق احمد الشراع نے جلد ہی عالمی سطح پر سفارتی تعلقات بہتر بنانے میں کامیابی حاصل کی۔
خاص طور پر امریکہ کے صدر
Donald Trump
کی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے کو اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
سکیورٹی چیلنجز اب بھی موجود
اگرچہ اسد حکومت کے خاتمے کے بعد بہت سے شہریوں کو گرفتاری اور تشدد کا خوف نہیں رہا، لیکن سکیورٹی صورتحال مکمل طور پر مستحکم نہیں ہو سکی۔
ملک کے کئی علاقوں میں:
- غیر قانونی ہتھیار موجود ہیں
- جرائم جیسے ڈکیتی کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں
- بعض علاقوں میں
Islamic State
کے جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔
کرد فورسز کے ساتھ مذاکرات
شامی حکومت نے شمال مشرقی علاقوں میں سرگرم
Syrian Democratic Forces
کو قومی فوج میں شامل کرنے کے لیے مذاکرات بھی شروع کیے ہیں۔
مستقبل کی آزمائش
ماہرین کے مطابق شام میں جنگ ختم ہونے کے باوجود سیاسی استحکام اور سکیورٹی کی بحالی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
اقلیتوں، خاص طور پر علوی برادری، کو نئے سیاسی نظام میں اپنی حیثیت کے بارے میں خدشات بھی لاحق ہیں۔
