ٹرمپ کا ایران پر ممکنہ حملے اور یوکرین جنگ رکوانے کے عزم کا اظہار

ممکنہ طور پر آج رات بھی ایرانی اہداف پر حملہ کریں گے: امریکی صدر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر آج رات بھی ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، اور امریکا معاہدے کے بغیر بھی ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

نیٹو سمٹ کی سائیڈ لائن پر یوکرینی صدر زیلنسکی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کا مستقبل بہت روشن ہے۔ ان کے مطابق پولینڈ میں مقیم یوکرینی شہری اب اپنے وطن واپس جانا چاہتے ہیں، جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان اور نیٹو اجلاس دونوں نے شاندار کارکردگی دکھائی۔

ایرانیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا لہجہ سخت رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانیوں کا رویہ بہت برا ہے اور وہ ان سے خوش نہیں ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق ایران نے گزشتہ روز جہازوں پر ڈرونز اور میزائل فائر کیے، جس کے بعد آج رات بھی ایرانی اہداف پر حملے کا امکان موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران 47 برس سے مشرق وسطیٰ میں غنڈہ گردی کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے زیلنسکی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ ماہ 25 ہزار یوکرینی جوان جنگ میں مارے گئے، اور چاہے روسی ہوں یا یوکرینی، جنگ میں دونوں طرف انسان مر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ کئی جنگیں رکوا چکے ہیں اور یہ جنگ بھی رکوا دیں گے۔

امریکی صدر نے بتایا کہ یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے اور ان کے انٹرسیپٹرز کی فراہمی پر بھی بات چیت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں امریکا کا اپنا مفاد بھی شامل ہے، جس میں معدنی وسائل نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، اور یوکرین غیر معمولی صلاحیت کا حامل ملک ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران مسلسل مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اسے کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ اب تک استعمال ہو چکا ہوتا، اور امریکا معاہدے کے بغیر بھی ایران کو اس صلاحیت سے روک سکتا ہے۔

Related posts

ہائی جیکنگ کا الارم کاک پٹ میں دونوں پائلٹس کے درمیان لڑائی کا نتیجہ نکلا

ایران کو سات روزہ اعتماد سازی منصوبے پر امریکی ردعمل موصول

طیارے میں تقریباً 180 اسرائیلی مسافر سوار تھے