سیستان و بلوچستان: امریکی حملوں میں 7 ایرانی فوجی شہید، شہری ہلاکتیں 30 تک پہنچ گئیں
امریکہ نے جنوب مشرقی ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان میں فوجی تنصیبات کو ایک بار پھر نشانہ بنایا ہے، جس میں کم از کم سات ایرانی فوجی ہلاک ہو گئے۔ یہ حملہ ایرانشہر کے قریب بمپور کے علاقے میں واقع فوجی چھاؤنی پر کیا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق حملہ آور میزائلوں نے چھاؤنی کے رہائشی کوارٹرز، گارڈ پوسٹس اور مہمان خانے کو نشانہ بنایا۔ ایرانی فوج نے تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والوں میں فعال اور بھرتی شدہ اہلکار شامل ہیں، جبکہ متعدد زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ سات گھنٹے تک جاری رہنے والی اس کارروائی میں درجنوں فوجی اہداف نشانہ بنائے گئے۔
بوشہر میں تین مقامات پر بمباری کی گئی تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔ چابہار میں سمندری نگرانی ٹاور کو بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جہاں دھماکوں کے بعد بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔
ایرانی حکومت کی ترجمان نے بتایا کہ حالیہ امریکی حملوں کے سلسلے میں اب تک 30 شہری ہلاک اور 260 زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 222 زخمیوں کو علاج کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا، جبکہ تین زخمی 18 سال سے کم عمر بچے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک وہ خود اجازت نہیں دیتے۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے واشنگٹن پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اپریل میں طے پانے والا سیز فائر معاہدہ حالیہ ہفتوں میں شدید دباؤ کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔
