ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مہنگائی کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا، جبکہ امریکا نے مظاہرین کی حمایت کی دھمکی دی ہے۔
ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک ریکارڈ شدہ خطاب میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ایران “دشمن کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائے گا” اور فسادات میں ملوث افراد کو ان کے الفاظ میں “ان کی جگہ دکھائی جائے گی”۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ملک بھر میں جاری احتجاج کے دوران 10 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ مظاہرے ایرانی کرنسی ریال کی تاریخی گراوٹ اور مہنگائی میں شدید اضافے کے باعث شروع ہوئے۔
حقوقِ انسانی تنظیم ہینگاو کے مطابق صرف ایک دن میں گرفتاریوں کی تعداد بڑھ کر 133 ہو گئی، جو ایک دن پہلے کے مقابلے میں 77 زیادہ ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مظاہرین کو نعرے لگاتے دیکھا گیا کہ
“ہم تماشائی نہیں چاہتے، سڑکوں پر آؤ”
تاہم ان ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ پرامن معاشی احتجاج قابلِ فہم ہے لیکن تشدد ناقابلِ قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ
“بازار کے تاجروں کی شکایات درست ہیں، لیکن شرپسندوں سے بات کرنا بے فائدہ ہے۔”
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا “لاک اینڈ لوڈڈ” ہے اور کسی بھی کارروائی کے لیے تیار ہے، تاہم انہوں نے کسی ممکنہ اقدام کی وضاحت نہیں کی۔
ماہرین کے مطابق ایران کو اس وقت دہائیوں کے سب سے بڑے دباؤ کا سامنا ہے، جہاں پابندیوں سے متاثرہ معیشت، توانائی بحران اور خطے میں اسٹریٹجک نقصانات نے حکومت کو کمزور کر دیا ہے۔
یہ مظاہرے 2022 میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ہونے والے ملک گیر احتجاج کے بعد سب سے بڑے مظاہرے قرار دیے جا رہے ہیں۔
