Table of Contents
ایک قدم جو امید بن گیا
لاہور: پاکستان میں خصوصی تعلیم کے شعبے میں ایک روشن اور قابلِ فخر اضافہ اُس وقت دیکھنے میں آیا جب مریم نواز شریف نے مریم نواز اسکول اینڈ ریسورس سینٹر برائے آٹزم کا افتتاح کیا۔ لاہور میں قائم یہ ادارہ محض ایک تعلیمی مرکز نہیں بلکہ حساس قیادت، سماجی شعور اور عملی خدمت کی ایک بامعنی مثال ہے۔ اس اقدام کو جتنا سراہا جائے کم ہے کیونکہ یہ اُن ہزاروں خاندانوں کے دکھ درد کو سمجھنے اور کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔
آئٹزم صرف ایک بچے کا مسئلہ نہیں
آئٹزم ایک ایسا عارضہ ہے جو صرف بچے تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے خاندان کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ اس حقیقت کو میں ذاتی طور پر محسوس کرتی ہوں کیونکہ میرا اپنا بھتیجا آئٹزم سے متاثر ہے۔ جب اس کی روزمرہ مشکلات، سماجی رکاوٹیں اور جذباتی کیفیات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے تو دل واقعی چھلنی ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اگر ریاست والدین کے لیے سہولت، رہنمائی اور باوقار تعلیمی ماحول فراہم کرے تو یہ کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مریم نواز شریف کا یہ قدم میرے جیسے بے شمار گھرانوں کے لیے امید، حوصلے اور اعتماد کا پیغام ہے۔
قیادت + احساس = حقیقی تبدیلی
اس فیصلے کی اصل اہمیت اس میں پوشیدہ انسانی احساس اور دوراندیشی میں ہے۔ آئٹزم سے متاثرہ بچوں کے لیے معیاری تعلیم، تربیت اور معاون سہولیات فراہم کرنا ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہوتا ہے۔ یہ اقدام اس امر کا مظہر ہے کہ حکومتی ترجیحات میں اب وہ طبقات بھی شامل ہیں جو طویل عرصے سے خصوصی توجہ کے منتظر تھے۔ اگر اسی جذبے اور تسلسل کے ساتھ پنجاب کے ہر ضلع میں ایسے مراکز قائم کیے جائیں تو والدین کی مشکلات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے اور بچوں کے لیے ترقی کے نئے در وا ہو سکتے ہیں۔
دنیا کیا کر رہی ہے؟
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے آئٹزم اور خصوصی تعلیم کے حوالے سے قابلِ تقلید ماڈلز قائم کیے ہیں۔ برطانیہ میں National Autistic Society اور امریکہ میں Autism Speaks جیسے ادارے تحقیق، آگاہی اور خاندانی معاونت کے ذریعے ایک مضبوط سپورٹ سسٹم فراہم کرتے ہیں۔ ان مثالوں سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب ریاست سنجیدگی سے سرمایہ کاری کرے اور سماج قبولیت کا رویہ اپنائے تو خصوصی ضرورت رکھنے والے افراد بھی اپنی بھرپور صلاحیتوں کے ساتھ معاشرے کا فعال حصہ بن سکتے ہیں۔
اصل پیغام کیا ہے؟
یہ حقیقت کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ قوموں کی ترقی کا انحصار مضبوط اور جامع تعلیمی نظام پر ہوتا ہے۔ مریم نواز شریف کا یہ قدم اس سمت میں ایک مثبت اور قابلِ تحسین پیش رفت ہے۔ آئٹزم سے متعلق سہولیات کا فروغ نہ صرف والدین کے لیے آسانی پیدا کرے گا بلکہ معاشرے میں ہمدردی، آگاہی اور شمولیت کے کلچر کو بھی مضبوط کرے گا۔
ایک بہتر کل کی طرف
امید کی جانی چاہیے کہ یہ اقدام ایک پائیدار وژن کا نقطۂ آغاز ثابت ہوگا کیونکہ ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں ہر بچہ، خواہ اس کی ضروریات مختلف ہی کیوں نہ ہوں، عزت، تعلیم اور بہتر مستقبل کے مساوی مواقع سے بہرہ مند ہو۔

1 تعليق
Shakila Fatima is no doubt a brave and patient and hardworking lady who loves with her task. She is determined and positive always. Her columns i read 📚 and always get enthusiasm and courage.