ایکسپلینر | ذوہیب علی
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایران نے فی الحال امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان آنے سے انکار کر دیا ہے، جس سے اسلام آباد کی سفارتی کوششوں پر غیر یقینی کے سائے گہرے ہو گئے ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ امریکہ نے جنگ بندی معاہدے کی ابتدا ہی سے خلاف ورزی کی ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی اور ایرانی تجارتی جہاز کی حالیہ ضبطی نہ صرف جنگ بندی بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔
ایران کا مؤقف اس معاملے میں مسلسل سخت اور واضح دکھائی دیتا ہے۔ تہران نے ایک بار پھر دہرا دیا ہے کہ اگر امریکہ یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے کوئی نئی جارحیت کی گئی تو اس کا بھرپور اور متناسب جواب دیا جائے گا۔ ساتھ ہی ایران نے اپنے پہلے سے پیش کردہ 10 نکاتی منصوبے کو ہی مذاکرات کی بنیاد قرار دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی شرائط سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے نہ صرف ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا بلکہ نئی عسکری کارروائیوں کی دھمکی بھی دی۔ ان بیانات میں شدت اور تسلسل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ واشنگٹن دباؤ کی حکمت عملی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، جس سے سفارتی عمل مزید پیچیدہ ہو رہا ہے۔
پاکستان، جو اس تنازع میں ایک کلیدی ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، اب ایک مشکل صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات کے لیے سیکیورٹی اور سفارتی تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں، تاہم ایران کی جانب سے عدم شرکت کے اشارے نے ان کوششوں کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
باوجود اس کے، پاکستانی حکام اب بھی محتاط امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ دونوں فریق دوبارہ مذاکرات کی میز پر آ سکتے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس مرحلے پر کسی بڑے معاہدے کے بجائے جنگ بندی میں توسیع یا ایک عبوری مفاہمتی یادداشت (MoU) کو کامیابی تصور کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے بظاہر سخت مؤقف دراصل ایک حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے، جہاں عوامی سطح پر مضبوط موقف اختیار کر کے مذاکرات میں برتری حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ پسِ پردہ سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں کیے گئے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بنیادی اختلافات—خصوصاً جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول—اب بھی حل طلب ہیں۔ یہی عوامل کسی بھی فوری پیش رفت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اگرچہ سفارتکاری کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، مگر اعتماد کا فقدان اور مسلسل عسکری دباؤ اس عمل کو کمزور کر رہے ہیں۔
اگر کشیدگی اسی طرح برقرار رہی تو نہ صرف مذاکرات تعطل کا شکار رہیں گے بلکہ خطہ ایک بار پھر بڑے تصادم کی طرف بھی جا سکتا ہے۔
