ایران کی پہلی شرط: پہلے معاہدے پر عملدرآمد
ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے مذاکرات کے لیے روانگی سے قبل واضح الفاظ میں کہا کہ ایران کی ترجیح نئی شرائط پر بات کرنا نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ مفاہمتی یادداشت (MoU) پر عملدرآمد دیکھنا ہے۔
تہران کا مؤقف ہے کہ جب تک امریکہ اپنے وعدوں پر عملی پیش رفت نہیں دکھاتا، اس وقت تک تکنیکی مذاکرات محض رسمی کارروائی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔
ایران کن اقدامات کا مطالبہ کر رہا ہے؟
ایران کے مطابق واشنگٹن کو درج ذیل معاملات پر فوری پیش رفت کرنا ہوگی
لبنان میں مکمل جنگ بندی اور اسرائیلی حملوں کا خاتمہ
آبنائے ہرمز پر امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ
آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی اور تجارتی سرگرمیوں کی
بحالی ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی رہائی
تیل، پیٹروکیمیکل اور توانائی کے شعبوں پر امریکی پابندیوں میں نرمی یا خاتمہ
تہران کا خیال ہے کہ یہی وہ اقدامات ہیں جو اعتماد سازی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
صرف کاغذی معاہدہ قبول نہیں
ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران محض دستخط شدہ دستاویزات سے مطمئن نہیں ہوگا۔
:انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنے بیان میں کہا کہ
امریکی معاشی مفادات اور لاگت و فائدے کی زبان بہتر سمجھتے ہیں۔ اگر معاہدہ صرف کاغذ تک محدود رہا تو مشرقِ وسطیٰ کی توانائی کی روانی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کے حقوق کے مکمل تحفظ اور وعدوں پر حقیقی عملدرآمد تک مذاکراتی ٹیم کسی سمجھوتے کو کامیاب تصور نہیں کرے گی۔
جوہری پروگرام بدستور سب سے بڑا تنازع
اگرچہ امن مذاکرات کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے، لیکن ایران کا جوہری پروگرام اب بھی بنیادی تنازع ہے۔
واشنگٹن ایران کی یورینیم افزودگی پر سخت پابندیاں چاہتا ہے، جبکہ تہران مسلسل مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ پرامن جوہری پروگرام اس کا قانونی اور خودمختار حق ہے
اسی لیے ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے 60 دن صرف تکنیکی تفصیلات طے کرنے کے نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی کے امتحان بھی ہوں گے۔
:پاکستان کی ثالثی اب بھی اہم
ان مذاکرات کے پس منظر میں پاکستان کی سفارتی کوششیں بھی قابلِ ذکر ہیں، جس نے جنگ بندی اور ابتدائی رابطوں میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم اب مذاکرات ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں کامیابی کا انحصار صرف ثالثی پر نہیں بلکہ امریکہ اور ایران کی سیاسی آمادگی پر ہوگا۔
:نتیجہ
اگرچہ تکنیکی مذاکرات کا آغاز ایک مثبت پیش رفت ہے، مگر ایران کا واضح پیغام یہی ہے کہ امن صرف وعدوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے آئے گا۔ تہران کے نزدیک اصل سوال یہ نہیں کہ مذاکرات کتنے دن چلتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ واشنگٹن اپنے وعدوں پر کس حد تک عمل کرتا ہے۔
