مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی صورتحال پر پاکستان کی سلامتی کونسل میں شدید تشویش
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کی صورتحال روز بروز سنگین ہوتی جا رہی ہے اور عالمی برادری کو اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں، جبکہ اسرائیلی آبادکاری کی توسیع تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آبادکاروں کے تشدد کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے اور اس میں ملوث افراد کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
پاکستانی مندوب نے غزہ کی انسانی صورتحال کو انتہائی نازک قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی تکالیف کم کرنے کا موجودہ موقع ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق فلسطینی عوام کے محصولات فوری اور مکمل طور پر جاری کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل طاقت کے زور پر زمینی حقائق تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عاصم افتخار احمد کے بقول، مسجدِ اقصیٰ کی حرمت پامال کرنا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور اسرائیل کی جانب سے تجویز کردہ روڈ میپ کو مسترد کرنا سفارتی عمل اور امن کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
پاکستانی مندوب نے عالمی برادری اور سلامتی کونسل پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال پر بلا تاخیر اقدام کیا جائے اور کونسل اپنی منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ ان کے مطابق یہی ریاست خطے میں جامع اور پائیدار امن کی قابلِ اعتبار بنیاد بن سکتی ہے۔
