Table of Contents
عالمی طاقتیں، بندوق اور قانون کی شرارت
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہونا عالمی سیاست کی سب سے شرارتی کہانیوں میں سے ایک ہے۔ خبر سن کر اکثر لوگ کہتے ہیں، “واہ! شاید امن قائم ہو رہا ہے!” مگر حقیقت میں یہ سب کچھ صرف طاقتوروں کے سرکس کا حصہ تھا۔
یہ کارروائی نہ کسی عدالت کے حکم پر ہوئی، نہ کسی بین الاقوامی فورم کی منظوری سے۔ یہ ایک بندوق کے زور پر نافذ کردہ قانون تھا، اور یہی وہ پہلو ہے جو عالمی سرکس کی سب سے بڑی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے: اگر ایک ملک کے صدر کو اس کے دارالحکومت سے اٹھایا جا سکتا ہے، تو پھر ریاستی خودمختاری، اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی قانون کیا ہیں؟ وہ صرف کتابوں میں رہنے والے الفاظ ہیں، جو طاقتوروں کے سامنے مکھی کے پنکھ کی طرح بے اثر ہیں۔
یہ عالمی نظام واقعی ایک شرارتی کھیل ہے، جہاں طاقتور اپنی مرضی سے قوانین بناتے اور مٹا دیتے ہیں، اور باقی دنیا تماشائی بن کر کھڑی رہتی ہے۔
جرم نافرمانی یا تیل کی سیاست؟
مادورو ایک مثالی حکمران نہیں تھے۔ ان کی حکومت پر کرپشن، آمرانہ طرز حکمرانی، اور سیاسی جبر کے الزامات لگتے رہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ انہیں کس نے، کس قانون کے تحت اور کس اختیار سے گرفتار کیا؟
امریکی حکومت کی جانب سے لگائے گئے ’’نارکو ٹیررازم‘‘ اور منشیات اسمگلنگ کے الزامات دلچسپ ہیں: یہ الزامات صرف ان ممالک پر لگتے ہیں جو امریکی ہدایات سے اختلاف کرتے ہیں۔ یعنی اگر آپ ان کے کھیل کے اصولوں پر چلیں تو سب ٹھیک، لیکن اگر آپ آزاد خارجہ پالیسی یا طاقتور اتحادیوں سے تعلقات رکھتے ہیں تو یہ الزامات آپ کے لیے تیار ہیں۔
اصل کہانی؟ تیل کے ذخائر۔ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے وسیع تیل کے ذخائر ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ مادورو ناقابلِ قبول بن گئے۔ روس اور چین کے ساتھ تعلقات؟ عالمی طاقتوں کے لیے سر پر خنجر، کیونکہ یہ طاقتیں صرف اپنی جیب میں تیل دیکھنا چاہتی ہیں۔
اور یہ سب کچھ ٹرمپ کے امن پھیلانے کے دعوے کے پس منظر میں ہوا؟ جی ہاں، وہی ٹرمپ جو نیو ایئر کے موقع پر اعلان کرتے ہیں کہ “میرا ریزولوشن ہے کہ میں دنیا میں امن پھیلاؤں”۔ امن پھیلانے کا دعویٰ اتنا حقیقت پر مبنی ہے جتنا صحرائے صحرا میں پانی تلاش کرنا۔
معاشی تباہی یا منصوبہ بند گھیراؤ؟
مادورو کے دور میں وینزویلا شدید معاشی بحران کا شکار تھا، اس میں کوئی شک نہیں۔ مگر کیا یہ بحران صرف ناقص حکمرانی کا نتیجہ تھا؟ ہرگز نہیں۔
سخت معاشی پابندیاں، بینکنگ سسٹم کی ناکہ بندی، تیل کی فروخت پر قدغنیں—یہ سب معاشی جنگ کے حربے تھے۔ مقصد صرف عوام کو حکومت کے خلاف بھڑکانا اور طاقتور عالمی کھلاڑیوں کے لیے راستہ صاف کرنا تھا۔
یہ وہ حقیقت ہے جو میڈیا کی خبریں چھپاتا ہے، اور عوام کو بتایا جاتا ہے کہ یہ سب صرف حکومت کی ناکامی ہے۔ مگر اصل میں یہ ایک پرفارمنس اور سیاسی سرکس ہے، جہاں ہر حرکت کی منصوبہ بندی پہلے سے ہوتی ہے۔
خطرناک مثال اور عالمی سرکس کی حقیقت
آج مادورو کو گرفتار کیا گیا، کل کسی اور غیر مطیع رہنما کی باری ہو سکتی ہے۔ اگر دنیا نے اس پر سوال نہ اٹھایا تو کل کسی بھی کمزور ملک کے وزیرِاعظم، صدر یا فوجی سربراہ کو اسی منطق کے تحت گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
یہ صرف وینزویلا کا مسئلہ نہیں، یہ ہر اس ریاست کا مسئلہ ہے جو خود کو خودمختار سمجھتی ہے۔ عالمی طاقتیں اپنے وعدوں میں ہمیشہ شرارتی جھوٹ اور طاقت کے کھیل کا تماشا پیش کرتی ہیں۔
ٹیل کی بوتلیں، ڈالر کے معاہدے، فوجی مشقیں—یہ سب صرف اس سرکس کے پرکشش حصے ہیں، جس میں عوام ہمیشہ تماشائی رہتے ہیں۔ اور ٹرمپ کے “امن پھیلانے” کے دعوے؟ وہ صرف میڈیا شو ہے، پس پردہ ہر اقدام تیل کے ذخائر، طاقت اور عالمی رسہ کشی کے لیے کیا گیا۔
عوام تماشائی بن کر کھڑی ہے، عالمی میڈیا ڈرامہ دکھا رہا ہے، اور طاقتور عالمی کھلاڑی اپنے مفادات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اور یہ سرکس، دوستو، صرف وینزویلا تک محدود نہیں۔
کل کسی اور ملک میں یہ کھیل دوبارہ شروع ہوگا، کیونکہ طاقتور کبھی سچائی کے دیپ جلانے کے لیے نہیں آتے۔ وہ صرف اپنے سرکس کے لیے کردار ادا کرتے ہیں، اور باقی دنیا شرارتی تماشائی بن کر رہ جاتی ہے۔
