امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی ایک ایسا قدم ہے جو نہ صرف جاری جنگ کو نئی شدت دے سکتا ہے بلکہ ایران کی معیشت کے بنیادی ڈھانچے کو بھی براہ راست متاثر کر سکتا ہے۔ یہ ناکہ بندی دراصل ایران پر دباؤ بڑھانے کی ایک حکمت عملی ہے تاکہ اسے مذاکرات میں جھکنے پر مجبور کیا جا سکے۔
ایران کی معیشت کا سب سے اہم ستون اس کی تیل برآمدات ہیں، جن کا تقریباً 80 فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں، ایران نے اس راستے پر کنٹرول قائم رکھتے ہوئے اپنی برآمدات جاری رکھیں اور عالمی قیمتوں میں اضافے کا فائدہ بھی اٹھایا۔ اندازوں کے مطابق، صرف ایک ماہ میں ایران نے تقریباً 5 ارب ڈالر تک آمدنی حاصل کی، جو جنگ سے پہلے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
تاہم، امریکی ناکہ بندی کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو سکتی ہے۔ اگر ایران اپنی تیل برآمدات جاری نہیں رکھ پاتا تو اس کی آمدنی میں شدید کمی آ سکتی ہے، جس سے نہ صرف حکومتی اخراجات بلکہ اندرونی معاشی استحکام بھی متاثر ہوگا۔ ماہرین کے مطابق ایران کے پاس کچھ حد تک تیل کے ذخائر موجود ہیں، جنہیں سمندر میں موجود ٹینکروں میں محفوظ کیا گیا ہے، لیکن یہ عارضی سہارا طویل مدت کے لیے کافی نہیں ہوگا۔
صرف تیل ہی نہیں بلکہ ایران کی دیگر تجارت بھی اس ناکہ بندی سے متاثر ہو سکتی ہے۔ ایران کی برآمدات میں پیٹروکیمیکلز، پلاسٹک اور زرعی مصنوعات شامل ہیں جبکہ درآمدات میں مشینری، الیکٹرانکس اور خوراک اہم ہیں۔ اگر بندرگاہوں تک رسائی محدود ہو جاتی ہے تو ملک کو نہ صرف زرمبادلہ کی کمی کا سامنا ہوگا بلکہ اندرون ملک اشیاء کی قلت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
ایران کے لیے ایک ممکنہ متبادل زمینی راستے ہیں، خاص طور پر چین کے ساتھ ریلوے رابطہ جو وسطی ایشیا کے ذریعے قائم کیا گیا ہے۔ یہ راستہ بحری ناکہ بندی کے اثرات کو کسی حد تک کم کر سکتا ہے، لیکن تیل جیسی بڑی مقدار میں توانائی کی ترسیل کے لیے یہ عملی طور پر محدود اور مہنگا حل ہے۔
اس کے علاوہ، ایران مبینہ طور پر “گھوسٹ شپ” حکمت عملی بھی استعمال کر رہا ہے، جس میں جہاز اپنی شناختی معلومات بند کر کے تیل کی ترسیل جاری رکھتے ہیں۔ تاہم، امریکی نگرانی کے باعث اس طریقہ کار کو بھی خطرات لاحق ہیں۔
اس تمام صورتحال میں ایک اہم عنصر چین ہے، جو ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ چین اس ناکہ بندی کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کرے گا، جس سے عالمی سطح پر ایک بڑا سفارتی اور معاشی تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔
حتمی طور پر، یہ ناکہ بندی ایران کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ضرور ہے، لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا یہ اسے پسپائی پر مجبور کرے گی یا مزید سخت مؤقف اختیار کرنے پر۔ موجودہ حالات میں یہ بحران دو ممکنہ راستوں کی طرف جا سکتا ہے: یا تو سفارتکاری کے ذریعے کشیدگی کم ہو جائے، یا پھر یہ ایک بڑے اور طویل تنازع میں تبدیل ہو جائے۔
