لاہور: MCL کی فیلڈ کارروائیاں جاری، چیف آفیسر کلیم یوسف کی بریفنگ، اہلکار پر تشدد کا انکشاف
لاہور کے خدمت گزار
تحریر: شکیلہ فاطمہ

کچھ دن پہلے میں نے لاہور کی انتظامیہ اور ڈی سی لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز کے بارے میں لکھا تھا کہ کس طرح وہ فیلڈ میں متحرک رہتے ہیں اور لاہور جیسے بڑے شہر کی خوبصورتی صفائی اور انتظامی بہتری کے لیے مسلسل کام کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اگر لاہور کی بہتری کے لیے ہونے والی کوششوں کا ذکر کیا جائے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور یعنی MCL کے کردار کو نظر انداز کر دیا جائے تو میرے خیال میں یہ بھی ایک بڑی زیادتی ہوگی۔
آج MCL کی ٹیم کے ساتھ فیلڈ میں وقت گزارنے اور چیف آفیسر کلیم یوسف کی بریفنگ سننے کا موقع ملا۔ ان کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ لاہور جیسے بڑے شہر کو سنبھالنا محض دفتر میں بیٹھ کر فائلوں پر دستخط کرنے کا نام نہیں، بلکہ صبح سے رات تک مسلسل نگرانی فیلڈ وزٹ ٹیم کے ساتھ رابطے اور فوری فیصلوں کا ایک مشکل سلسلہ ہے۔

کلیم یوسف نے جس طرح اپنی ٹیم کے کام اور شہر کے مختلف علاقوں کی صورتحال سے آگاہ کیا اس سے یہ محسوس ہوا کہ MCL کی ذمہ داریاں کس قدر وسیع ہیں۔ دفتر سے فیلڈ اور فیلڈ سے دوبارہ دفتر تک مسلسل متحرک رہنا آسان کام نہیں۔ خصوصاً لاہور جیسے شہر میں جہاں ہر علاقے کے مسائل کی نوعیت مختلف ہے اور شہریوں کی توقعات بھی بہت زیادہ ہیں وہاں ایک بڑے ادارے کو مسلسل متحرک رکھنا یقیناً ایک مشکل انتظامی ذمہ داری ہے۔
میرے لیے اس دن کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ صرف بریفنگ تک محدود رہنے کے بجائے مختلف علاقوں کا فیلڈ وزٹ بھی کیا گیا۔ میٹروپولیٹن آفیسر جواد الحسن گوندل نے مختلف مقامات کا دورہ کروایا اور خود زمینی صورتحال دکھائی۔ جو علاقے کبھی اس قدر تجاوزات اور رکاوٹوں کی زد میں تھے کہ وہاں پاؤں رکھنے کی جگہ بھی مشکل محسوس ہوتی تھی، وہاں اب راستے کلیئر تھے اور شہری آسانی سے اپنی آمدورفت کر رہے تھے۔

جواد الحسن گوندل کا فیلڈ میں اپنی ٹیم کے ساتھ موجود رہنا بھی قابلِ ذکر ہے۔ مختلف علاقوں کا جائزہ لینا آپریشنز کی نگرانی کرنا اور موقع پر موجود مسائل کو سمجھنا اس بات کی علامت ہے کہ انتظامی کام صرف دفتر کی میز تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ پیر مکی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن بھی اسی سلسلے کی ایک مثال ہے جہاں شہریوں کے لیے راستے بحال کرنے کی کوشش کی گئی۔
یہاں ایک بات ہم شہریوں کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر انتظامیہ فیلڈ میں محنت کر رہی ہے راستے کلیئر کر رہی ہے اور صفائی و تجاوزات کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تو شہریوں کو بھی اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ شہر صرف سرکاری اداروں سے نہیں بنتا شہریوں کے رویے بھی شہر کی خوبصورتی اور نظم و ضبط میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
سب سے تکلیف دہ پہلو اس وقت سامنے آتا ہے جب سرکاری ٹیمیں اپنا فرض ادا کرنے فیلڈ میں نکلیں اور انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے۔ صرف دو دن قبل فیلڈ ٹیم کے ایک رکن کا بازو توڑ دیا گیا جبکہ ایک دوسرے رکن کو بھی زخمی کیا گیا۔ اختلاف اپنی جگہ شکایت اپنی جگہ لیکن سرکاری فرائض انجام دینے والے اہلکاروں پر تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اگر کسی کارروائی پر اعتراض ہے تو اس کے لیے قانونی اور انتظامی فورمز موجود ہیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ فیلڈ میں کام کرنے والا اہلکار بھی ایک انسان ہے۔ وہ بھی اپنے گھر سے نکل کر لوگوں کے مسائل حل کرنے آتا ہے۔ اسے دھمکی تشدد یا مزاحمت کا سامنا ہو تو اس کا اثر صرف ایک فرد پر نہیں بلکہ پورے نظام کی کارکردگی پر پڑتا ہے۔
چیف آفیسر کلیم یوسف کے لیے MCL جیسے بڑے ادارے کی قیادت کرنا بھی ایک معمولی ذمہ داری نہیں۔ لاہور وہ شہر ہے جس پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حکومت خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ ایسے میں شہر کو لمحہ بہ لمحہ مانیٹر کرنا، مختلف علاقوں کی صورتحال پر نظر رکھنا فیلڈ ٹیموں سے رابطہ رکھنا اور شہری مسائل کے حل کے لیے مسلسل متحرک رہنا ایک بڑا ٹاسک ہے۔
دن رات کام کرنے کے لیے صرف عہدہ کافی نہیں ہوتا اس کے لیے برداشت نظم و ضبط ٹیم ورک اور اپنے کام سے وابستگی بھی ضروری ہوتی ہے۔ کلیم یوسف کی بریفنگ اور فیلڈ میں ان کی ٹیم کی سرگرمیوں کو دیکھ کر یہ ضرور محسوس ہوا کہ MCL کی سطح پر شہر کے مختلف مسائل کو حل کرنے کے لیے مسلسل کوشش جاری ہے۔
اسی طرح جواد الحسن گوندل اور ان کی فیلڈ ٹیم کو بھی سراہنا چاہیے جو مختلف علاقوں میں جا کر زمینی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں اور آپریشنز کی نگرانی کرتے ہیں۔ کسی بھی بڑے شہر میں انتظامی اقدامات کا اصل امتحان فائل میں نہیں بلکہ فیلڈ میں ہوتا ہے، جہاں عوام کے درمیان جا کر فیصلوں پر عمل درآمد کروانا پڑتا ہے۔
تنقید صحافت کا لازمی حصہ ہے اور جہاں غلطی ہو وہاں سوال ضرور اٹھنا چاہیے لیکن جہاں محنت نظر آئے وہاں اس کا اعتراف بھی ہونا چاہیے۔ کسی افسر یا ادارے کی تعریف کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے ہر اقدام کو درست قرار دے دیا جائے، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جو کام زمینی سطح پر نظر آ رہا ہو اسے بھی دیانت داری سے بیان کیا جائے۔
لاہور کی خوبصورتی صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بنتی۔ ایک صاف راستہ تجاوزات سے واگزار کروایا گیا فٹ پاتھ بہتر صفائی شہریوں کے لیے آسان آمدورفت اور فیلڈ میں موجود ایک متحرک ٹیم بھی شہر کی خوبصورتی کا حصہ ہے۔
اگر انتظامیہ اپنا کام ذمہ داری سے کرے اور شہری بھی اپنے شہر کو صاف رکھنے تجاوزات سے گریز کرنے اور سرکاری عملے کے ساتھ تعاون کرنے کا فیصلہ کریں تو لاہور مزید بہتر ہو سکتا ہے۔
آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ لاہور کی خدمت کسی ایک دفتر یا ایک افسر کی ذمہ داری نہیں یہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ڈی سی لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز ہوں چیف آفیسر کلیم یوسف ہوں میٹروپولیٹن آفیسر جواد الحسن گوندل ہوں یا فیلڈ میں کام کرنے والے عام اہلکار ہر شخص کی اپنی جگہ ایک ذمہ داری ہے۔
اور جب یہ تمام ذمہ داریاں نیک نیتی محنت اور ٹیم ورک کے ساتھ ادا ہوں تو اس کا فائدہ آخرکار لاہور کے شہریوں کو ہی پہنچتا ہے
