ویل ڈن ڈی سی لاہور: کارکردگی بولتی ہے
شکیلہ فاطمہ
آج بہت عرصے بعد قلم اٹھایا ہے کیونکہ آہستہ آہستہ صحافت اور کالم نگاری سے خود کو دور کر رہی ہوں۔ مگر کچھ موضوعات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو دوبارہ لکھنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ کل اپنے کولیگ جو میرے لیے بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں سلمان صاحب کا ڈی سی لاہور کے حوالے سے لکھا گیا آرٹیکل پڑھا۔ اس موضوع پر ہماری واٹس ایپ پر بھی کافی گفتگو ہوئی پھر رات گئے میں نے سوچا کہ اس۔ معاملے پر اپنی رائے بھی قلم بند کروں۔
سب سے پہلے میں ڈی سی لاہور اور پوری ضلعی انتظامیہ کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں۔ آج موسلا دھار بارش کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں کافی پانی جمع ہو گیا تھا۔ میں رائیونڈ روڈ سے اپنے گھر سے نکلی اور مجھے جمخانہ کلب جانا تھا۔ جاتے وقت کئی مقامات پر پانی موجود تھا مگر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد جب واپسی ہوئی تو حیرت انگیز طور پر شہر کے بیشتر علاقوں سے پانی کی نکاسی ہو چکی تھی۔ صرف دو تین مقامات پر ہی پانی باقی تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انتظامیہ نے بروقت اور مؤثر انداز میں کام کیا۔
اب اصل موضوع کی طرف آتی ہوں۔ میرے محترم بھائی سلمان صاحب نے اپنے آرٹیکل میں لکھا کہ ڈی سی لاہور کام نہیں کرتے اور زیادہ وقت ٹک ٹاک پر نظر آتے ہیں۔ میری تحقیق اور ذاتی مشاہدہ اس سے مختلف ہے۔ میرے نزدیک انہوں نے مختصر عرصے میں نہ صرف ضلعی انتظامیہ کو بہتر انداز میں منظم کیا بلکہ متعدد مثبت اقدامات بھی کیے۔ تجاوزات کے خلاف مؤثر کارروائیاں کیں، شہری مسائل پر فوری نوٹس لیا اور جہاں بھی بے ضابطگی ان کے علم میں آئی وہاں بلا تاخیر کارروائی کی گئی۔
جہاں تک میڈیا اور سوشل میڈیا پر ان کی موجودگی کا تعلق ہے تو لاہور پنجاب کا سب سے بڑا اور اہم شہر ہے جو ہر وقت قومی میڈیا کی توجہ کا مرکز رہتا ہے۔ یہاں نیوز چینلز رپورٹرز اور اینکرز کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے۔ جب ایک صحافی انٹرویو کرتا ہے تو اس کے بعد کئی دوسرے میڈیا نمائندے بھی آ جاتے ہیں۔ ایسے میں عوام کو بروقت معلومات فراہم کرنا ایک ضلعی افسر کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے اس لیے میڈیا سے گفتگو کرنا ان کے فرائض کا حصہ ہے، نہ کہ کوئی شوق۔
یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ لاہور پنجاب کا دارالحکومت ہے جہاں خود وزیراعلیٰ پنجاب ہر بڑے اور اہم انتظامی معاملات کی مسلسل نگرانی کرتی ہیں۔ ایسے شہر میں ضلعی انتظامیہ ہر وقت جوابدہی اور احتساب کے عمل سے گزرتی ہے اس لیے کسی بھی افسر کے لیے غفلت یا لاپرواہی کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بارش تجاوزات صفائی اور دیگر شہری مسائل پر انتظامیہ کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنا پڑتے ہیں کیونکہ معمولی سی کوتاہی بھی فوراً نوٹس میں آ جاتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان غلطیوں سے مبرا نہیں ہوتا۔ کوئی بھی افسر ہر گلی ہر محلے اور ہر مقام پر ایک ہی وقت میں موجود نہیں ہو سکتا۔ بعض اوقات کچھ معاملات اس کی نظروں سے اوجھل بھی رہ جاتے ہیں مگر اہم بات یہ ہے کہ جب انہیں کسی مسئلے کی اطلاع ملتی ہے تو وہ اس پر فوری ایکشن لیتے ہیں۔ کسی بھی افسر کی کارکردگی کا اندازہ ایک آدھ واقعے سے نہیں بلکہ اس کی مجموعی کارکردگی سے لگایا جانا چاہیے۔
میری رائے میں کسی بھی سرکاری افسر کی کارکردگی کا فیصلہ محض سوشل میڈیا کی ویڈیوز یا چند کلپس دیکھ کر نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے عملی اقدامات عوامی سہولت اور زمینی حقائق کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ تنقید یقیناً ہونی چاہیے لیکن وہ تعمیری منصفانہ اور حقائق پر مبنی ہو تاکہ اچھا کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی ہو اور جہاں خامیاں ہوں ان کی نشاندہی بھی مثبت انداز میں کی جا سکے۔
میں نے خود بارہا دیکھا ہے کہ شہریوں کی شکایات پر فوری نوٹس لیا گیا تجاوزات کے خلاف کارروائیاں ہوئیں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی اور بارش کے بعد نکاسیٔ آب کے عمل کو تیز کیا گیا۔ یقیناً ابھی بھی بہت سے مسائل موجود ہیں اور ان پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ کہنا کہ کچھ بھی نہیں ہو رہا زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اگر کوئی افسر بارش جیسے ہنگامی حالات میں خود میدان میں موجود رہے نکاسیٔ آب کے عمل کی نگرانی کرے تجاوزات کے خلاف کارروائی کرے اور عوامی شکایات پر فوری ردِعمل دے تو ایسے اقدامات کو بھی کھلے دل سے سراہنا چاہیے۔ اچھی کارکردگی کی تعریف کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کمزوریوں کی نشاندہی کرنا۔
اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے اور میرا مقصد کسی کی رائے کو رد کرنا نہیں بلکہ اپنا مشاہدہ اور تحقیق قارئین کے سامنے رکھنا ہے۔ میری نظر میں تنقید وہی مؤثر ہوتی ہے جو انصاف توازن اور حقائق پر مبنی ہو۔ جہاں خامیاں ہوں وہاں ضرور نشاندہی کی جائے لیکن جہاں محنت دیانت داری اور عوامی خدمت نظر آئے وہاں کھلے دل سے داد دینا بھی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
اسی لیے ایک جملہ ضرور بنتا ہے…
ویل ڈن ڈی سی لاہور