لاہور میں بیس برس بعد بسنت کا میلہ یوں سجا کہ جیسے شہر نے طویل اداسی کے بعد ایک ساتھ سانس لیا ہو۔ لبرٹی چوک میں لوگوں کا رش، رنگ برنگی پتنگیں، چھتوں پر کھڑے بچوں کے قہقہے اور سڑکوں پر چلتے لوگوں کی آنکھوں میں چمک اس بات کا اعلان تھی کہ لاہور کی رگوں میں پھر سے خوشی دوڑنے لگی ہے۔
جب میں باہر نکلی اور یہ منظر دیکھا تو بے اختیار یہی خیال آیا کہ یہ صرف ایک تہوار نہیں بلکہ ایک کھوئی ہوئی شناخت کی واپسی ہے۔
برسوں بعد لاہور نے خود کو آئینے میں پہچانا ہے۔
بسنت پر پابندی کے بعد لاہور ایک ایسے موسم سے محروم ہو گیا تھا جو اس کی روح میں شامل تھا۔ حادثات کے خدشات اور انتظامی کمزوریاں اپنی جگہ مگر اس پابندی نے شہر سے رنگ، موسیقی اور اجتماعی خوشی چھین لی۔
تہوار ختم ہو گئے مگر مسائل ختم نہ ہوئے۔ اس خلا کو کسی نے سنجیدگی سے محسوس نہیں کیا یہاں تک کہ مریم نواز نے اس موضوع کو محض انتظامی نہیں بلکہ سماجی اور ثقافتی زاویے سے دیکھنے کی جرات کی۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز کا یہ قدم کہ وہ عوام کو ایک اجتماعی خوشی لوٹانے کا سوچیں محض ایک تہوار کی اجازت نہیں بلکہ ایک سوچ کی عکاسی ہے۔
انہوں نے خود اپنے بیان میں تسلیم کیا کہ بسنت کو بعض حلقے دوسروں کا تہوار کہتے ہیں مگر اگر لوگ اسے منانا چاہتے ہیں اور اپنی ثقافت کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو ریاست کو اس خواہش کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
یہ وہ سوچ ہے جو مریم نواز کی سیاسی بالغ نظری کو ظاہر کرتی ہے۔
وہ جانتی ہیں کہ حکومت کا کام صرف سڑکیں بنانا یا فائلیں نمٹانا نہیں بلکہ لوگوں کے دلوں کی ویرانی کو بھی آباد کرنا ہے۔
بسنت کی واپسی دراصل اس طرزِ حکمرانی کا تسلسل ہے جو مریم نواز کی حکومت کے دیگر منصوبوں میں بھی دکھائی دیتا ہے۔
لاہور ہو یا پنجاب کے دیگر شہر، صفائی کے نظام سے لے کر صحت اور تعلیم تک ایک متحرک انداز نمایاں ہے۔
سرکاری مشینری میں حرکت آئی ہے، فیلڈ میں افسران دکھائی دینے لگے ہیں اور عوام کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ حکومت کہیں دور فائلوں میں نہیں بلکہ ان کے درمیان موجود ہے۔
مریم نواز کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے سیاست کو محض نعروں سے نکال کر انتظام اور احساس کے دائرے میں داخل کیا۔
بسنت جیسے معاملے پر فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا۔ تنقید کا خوف، مذہبی اعتراضات، سیکیورٹی کے خدشات سب سامنے تھے مگر انہوں نے اس مسئلے کا حل پابندی میں نہیں بلکہ بہتر انتظام میں تلاش کیا۔
یہی فرق ایک روایتی حکمران اور وژن رکھنے والے لیڈر میں ہوتا ہے۔
بسنت کے موقع پر سیکیورٹی انتظامات ہوں یا شہری نظم و ضبط، حکومت کی موجودگی واضح تھی۔
یہ پیغام دیا گیا کہ خوشی منانا جرم نہیں مگر قانون کے دائرے میں رہ کر منانا سب کی ذمہ داری ہے۔
یہی توازن وہ نکتہ ہے جو مریم نواز کی حکمرانی کو نمایاں بناتا ہے۔
وہ جانتی ہیں کہ سختی اور نرمی دونوں کا استعمال کہاں ضروری ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پنجاب کی سیاست میں ایک عرصے بعد کسی خاتون وزیر اعلیٰ کو اس اعتماد کے ساتھ فیصلے کرتے دیکھا جا رہا ہے۔
مردوں کی دنیا میں سیاست کرنا ہمیشہ مشکل رہا ہے مگر مریم نواز نے یہ ثابت کیا ہے کہ قیادت جنس کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ وژن اور حوصلے کی ہوتی ہے۔
بسنت کی بحالی ہو یا شہری سہولتوں کے منصوبے، وہ ہر جگہ خود کو ایک فعال اور متحرک منتظم کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔
بسنت کے رنگ دراصل پنجاب کے لیے ایک امید کا استعارہ ہیں۔
یہ پیغام ہے کہ اگر نیت ہو تو برسوں کے تعطل کے بعد بھی خوشیاں واپس لائی جا سکتی ہیں۔
مریم نواز کی حکومت نے یہ باور کرایا ہے کہ عوام کو صرف روٹی، کپڑا اور مکان نہیں بلکہ مسکرانے کے مواقع بھی چاہئیں۔
ایک خوش قوم ہی ایک مضبوط قوم بن سکتی ہے۔
لاہور کی سڑکوں پر اس روز جو منظر تھا وہ سیاست کے بڑے بڑے دعوؤں سے زیادہ طاقتور تھا۔
وہ منظر بتا رہا تھا کہ عوام کب کسی حکومت کو دل سے قبول کرتے ہیں —
جب حکومت ان کی زندگی میں آسانی اور خوشی دونوں لے کر آئے۔
بسنت کی واپسی اسی سمت ایک علامتی مگر مضبوط قدم ہے۔

آج جب لوگ پتنگیں اڑا رہے تھے تو شاید انہیں یہ بھی احساس تھا کہ کسی نے ان کی دیرینہ خواہش سنی ہے۔
یہ احساس کسی بھی حکومت کے لیے سب سے بڑی کامیابی ہوتا ہے۔

اگر یہی اندازِ حکمرانی جاری رہا تو بعید نہیں کہ پنجاب نہ صرف ترقی کے سفر میں آگے بڑھے بلکہ ایک خوش باش اور پراعتماد معاشرے کی صورت میں بھی ابھرے۔
بسنت کا میلہ اس سفر کی ایک جھلک ہے —
اور اس جھلک کے پیچھے جو ہاتھ نظر آتا ہے، وہ مریم نواز کا ہے۔
