امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ اب عقیدے اور طاقت کی “زیرو سم” لڑائی بن چکی ہے
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کو اگر صرف فوجی حکمت عملی یا جغرافیائی سیاست کے زاویے سے دیکھا جائے تو تصویر ادھوری رہ جاتی ہے۔ حقیقت میں یہ تنازعہ اتنا ہی مذہبی نظریات کی ٹکر ہے جتنا کہ طاقت اور مفادات کی جنگ۔
امریکی وزیر دفاع Pete Hegseth نے ایران کو “مذہبی جنون میں مبتلا ریاست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے نظام کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں ہونے چاہئیں۔ اسی طرح امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے ایرانی قیادت کو “مذہبی شدت پسند” کہا۔
یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ جنگ کا بیانیہ اب صرف سکیورٹی نہیں بلکہ عقیدے کی بنیاد پر تشکیل دیا جا رہا ہے۔
مغرب میں مذہب اور سیاست کی واپسی
مغربی دنیا، خاص طور پر امریکہ، طویل عرصے تک ایک سیکولر نظام کے تحت چلتی رہی جہاں مذہب کو نجی زندگی تک محدود رکھا گیا۔
لیکن اب ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے:
- Christian Nationalism
- مذہب کو ریاستی طاقت کے ساتھ جوڑنا
- “مقدس جنگ” کا تصور
Pete Hegseth اس سوچ کی نمایاں مثال سمجھے جاتے ہیں، جنہوں نے اپنی شناخت کو ایک “جدید عیسائی صلیبی جنگ” سے جوڑا۔
Christian Zionism اور جنگ کا مذہبی فریم
امریکہ میں ایک مضبوط مذہبی گروہ Christian Zionists بھی ہے، جو یہ مانتا ہے کہ:
- یروشلم میں تیسرا ہیکل (Third Temple) تعمیر ہونا چاہیے
- Al-Aqsa Mosque کی جگہ اس کا قیام ایک مذہبی پیشگوئی ہے
- یہ عمل حضرت عیسیٰ کی دوبارہ آمد (Second Coming) کی شرط ہے
اسی سوچ کے تحت ایران کو ایک روحانی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔
امریکہ کے اسرائیل میں سفیر
Mike Huckabee
نے کھل کر اسرائیل کی توسیع پسند پالیسیوں کی حمایت کی ہے۔
ایران کا نظریہ: ولایتِ فقیہ
ایران کی ریاستی نظریہ
Wilayat al-Faqih
پر مبنی ہے، جس کے مطابق:
- اسلامی فقیہ (Leader) کو مکمل اختیار حاصل ہے
- مہدی کے ظہور تک یہی نظام حکومت چلائے گا
اس نظریے کے تحت:
- ظلم کے خلاف مزاحمت ایک مذہبی فریضہ ہے
- پسپائی یا سمجھوتہ عقیدے سے انحراف سمجھا جاتا ہے
“مقدس جنگ” کا بیانیہ
ایران نے ماضی میں
Iran-Iraq War
کو بھی “مقدس دفاع” کے طور پر پیش کیا۔
اسی سوچ نے:
- خطے میں پراکسی نیٹ ورکس
- لبنان، شام، عراق میں اثر و رسوخ
- “Forward Defence Strategy”
کو جنم دیا۔
اسرائیلی مؤقف
اسرائیلی وزیراعظم
Benjamin Netanyahu
اور دیگر رہنما ایران اور حماس کو بائبلی اصطلاح “Amalek” سے جوڑتے ہیں، جس کا مطلب مکمل خاتمہ ہے۔
یہ بیانیہ اس جنگ کو وجودی (existential) بنا دیتا ہے۔
زیرو سم جنگ
اس تنازعے کی سب سے خطرناک حقیقت یہ ہے کہ:
👉 دونوں فریق خود کو “خدائی مشن” پر سمجھتے ہیں
👉 ایک کی کامیابی دوسرے کی مکمل شکست سے جڑی ہے
اسی لیے اسے:
“Zero-Sum Collision of Messianic Ideologies” کہا جا رہا ہے۔
امریکہ کے اصل اہداف؟
امریکہ کی حکمت عملی بار بار تبدیل ہوتی نظر آتی ہے:
- کبھی Regime Change
- کبھی Nuclear Program روکنا
- کبھی Military Weakening
لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق اصل ہدف:
👉 ایران کو کمزور کرنا
👉 خطے میں اسرائیل کی برتری قائم رکھنا
ایران کی حکمت عملی
ایران بھی اس جنگ کے لیے طویل عرصے سے تیار تھا:
- خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانا
- خلیجی ممالک کی معیشت کو دباؤ میں لانا
- امریکہ کی موجودگی کو غیر محفوظ ثابت کرنا