واشنگٹن میں دوستی ہو رہی ہے، اسلام آباد میں معاہدے ہو رہے ہیں، اور درمیان میں Crypto خاموشی سے حساب کتاب کر رہی ہے
پاکستان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی نئی قربت دیکھ کر ہمارے ہاں ایک پرانا سوال پھر زندہ ہوگیا ہے:
یہ دوستی ہے یا کاروبار؟
اور اگر کاروبار ہے تو سوال یہ نہیں کہ کاروبار کیوں ہو رہا ہے، سوال یہ ہے کہ منافع کس کا ہوگا؟
کیونکہ جناب ٹرمپ صاحب بنیادی طور پر کاروباری آدمی ہیں۔ سیاست میں بھی آئے تو اپنا برانڈ ساتھ لائے، اقتدار میں بھی آئے تو کاروباری زبان ساتھ رہی، اور اب Crypto کی دنیا میں بھی ایسا لگتا ہے کہ دوستی، ڈپلومیسی اور dollars ایک ہی میز پر بیٹھے چائے پی رہے ہیں۔
اور پاکستان؟
پاکستان ہمیشہ کی طرح میز پر بیٹھا ہے، چائے بھی پی رہا ہے اور کیلکولیٹر بھی ساتھ لایا ہے۔
دوستی کا تازہ باب: Crypto
جنوری 2026 میں پاکستان نے World Liberty Financial سے منسلک SC Financial Technologies کے ساتھ ایک Memorandum of Understanding کیا تاکہ Trump-family-linked USD1 stablecoin کو cross-border transactions اور remittances کے ممکنہ استعمال کے لیے explore کیا جا سکے۔
لیکن یہاں ایک چھوٹی سی مگر بہت اہم بات ہے:
یہ کوئی ایسا حتمی معاہدہ نہیں جس کے تحت پاکستان نے اپنی پوری international payment system Crypto کے حوالے کر دی ہو۔
یہ MoU غیر پابند اور exploratory نوعیت کا ہے۔ یعنی ابھی بات چیت، technical understanding اور possibilities کی سطح پر ہے۔
تو جناب، ابھی شادی نہیں ہوئی، صرف رشتہ آیا ہے۔
اب اصل دلچسپ حصہ: پاکستان کو فائدہ کیا؟
پاکستان کی معیشت میں بیرون ملک پاکستانیوں کی بھیجی ہوئی رقم کوئی معمولی چیز نہیں۔
FY2025 میں پاکستان کو $38.3 ارب کی ریکارڈ workers’ remittances موصول ہوئیں، جو FY2024 کے تقریباً $30.3 ارب کے مقابلے میں 26.6 فیصد زیادہ تھیں۔
اب ذرا اس رقم کا حجم ذہن میں رکھیں:
$38.3 ارب۔
یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ اگر اس میں صرف چند فیصد کی بچت بھی ہو جائے تو حکومت کے لیے شاید ایک آدھ پریس کانفرنس کم کرنی پڑے اور خزانے کے لیے ایک آدھ سانس زیادہ آ جائے۔
World Bank کے مطابق عالمی سطح پر remittances بھیجنے کی اوسط لاگت تقریباً 6.36 فیصد ہے۔
اب فرض کریں—صرف illustration کے طور پر—کہ $38.3 ارب کے پورے remittance flow پر لاگت 6.36 فیصد سے کم ہو کر صرف 1 فیصد رہ جائے۔
فرق بنتا ہے:
5.36 percentage points۔
$38.3 ارب کا 5.36 فیصد تقریباً:
$2.05 ارب سالانہ
یعنی نظریاتی طور پر تقریباً 2 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم transaction costs میں بچ سکتی ہے۔
لیکن ذرا رکیں!
یہاں calculator کو خوشی سے ناچنے نہ دیں۔
یہ پاکستان کی guaranteed saving نہیں ہے۔
کیونکہ 6.36 فیصد عالمی average ہے، پاکستان کے ہر remittance corridor کی actual fee نہیں۔ ہر transfer stablecoin کے ذریعے نہیں ہوگا، ہر transaction کی cost ایک جیسی نہیں ہوگی، اور USD1 ابھی پاکستان میں ایسا established remittance channel نہیں جس پر $38.3 ارب منتقل ہو رہے ہوں۔
لہٰذا $2.05 ارب کو potential/illustrative upper-bound type calculation سمجھنا چاہیے، promised saving نہیں۔
اور یہی فرق journalism اور WhatsApp University میں ہوتا ہے۔
پھر Trump صاحب کا کاروبار کہاں ہے؟
اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف۔
USD1 کوئی پاکستانی سرکاری cryptocurrency نہیں۔ یہ World Liberty Financial ecosystem سے وابستہ dollar-linked stablecoin ہے، جبکہ BitGo اس کی issuance اور reserve infrastructure میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
USD1 کو 1:1 امریکی ڈالر کے ساتھ redeemable رکھنے کے لیے reserves میں cash، US government money-market funds اور دیگر cash equivalents شامل کیے جاتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس کے reserves کی monthly attestations بھی شائع کی جاتی ہیں۔
اب یہاں کاروبار کی وہ خوشبو آتی ہے جس کے لیے ٹرمپ صاحب کو کسی introduction کی ضرورت نہیں۔
Stablecoin جتنی زیادہ استعمال ہوگی، اس کے پیچھے موجود reserve assets بھی اتنے بڑے ہو سکتے ہیں۔
اور ان reserves پر حاصل ہونے والی آمدنی اس business model کا ایک اہم حصہ ہے۔ Reuters کے مطابق 2026 کے وسط تک USD1 سے متعلق Trump family کی آمدنی اور World Liberty Financial کی financial scale پہلے ہی نمایاں ہو چکی تھی۔
یعنی پاکستان اگر اس ecosystem کو استعمال کرتا ہے تو فائدہ صرف پاکستان کے کیلکولیٹر پر نہیں آئے گا۔
دوسری طرف بھی کیلکولیٹر موجود ہے۔
پاکستان کا فائدہ: سستا اور تیز settlement؟
Stablecoin کا بنیادی وعدہ یہی ہے:
پیسے کو سرحد پار بھیجنے میں کم intermediaries، تیز settlement اور ممکنہ طور پر کم transaction cost۔
World Liberty Financial خود USD1 کو cross-border payments کے لیے تیز اور کم لاگت settlement mechanism کے طور پر پیش کرتی ہے۔
اگر یہ model پاکستان میں regulated طریقے سے کامیاب ہوتا ہے تو اس کے ممکنہ فوائد میں:
remittance cost میں کمی؛
cross-border settlement میں تیزی؛
24/7 digital settlement؛
transaction transparency؛
اور بعض معاملات میں traditional correspondent banking intermediaries پر کم انحصار
شامل ہو سکتے ہیں۔
لیکن پھر وہی بات:
"ممکنہ” کو "حتمی” بنا دینا ہمارے ہاں شاید سب سے تیز چلنے والی currency ہے۔
اور کیا پاکستان Trump کا پہلا Crypto client ہے؟
یہ دعویٰ بھی ذرا احتیاط مانگتا ہے۔
پاکستان World Liberty Financial کے ساتھ sovereign-level agreement کرنے والے ابتدائی ممالک میں ضرور شامل ہے، لیکن اسے سادہ الفاظ میں "Trump کی Crypto کمپنی کا پہلا client” کہنا درست نہیں۔
اور یہی وجہ ہے کہ اس پوری کہانی کو زیادہ دلچسپ بنانے کے لیے exaggeration کی ضرورت بھی نہیں۔
اصل facts خود کافی ہیں۔
FATF والی کہانی کہاں کھڑی ہے؟
یہاں بھی ایک دلچسپ correction ضروری ہے۔
پاکستان اس وقت FATF کی blacklist یا grey list میں نہیں ہے۔ FATF نے اکتوبر 2022 میں پاکستان کو increased monitoring یعنی grey list سے نکال دیا تھا۔
اس لیے یہ کہنا کہ USD1 پاکستان کو FATF کی blacklist سے نکالے گا، technically درست نہیں۔
البتہ اگر پاکستان regulated digital assets، KYC، AML اور traceable blockchain-based transactions کو مضبوط بناتا ہے تو اس سے financial transparency اور compliance architecture بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
یعنی Crypto کوئی FATF کی جادو کی چھڑی نہیں۔
Compliance کرنا پڑے گا۔
صرف Trump صاحب سے سلام دعا کافی نہیں۔
Swiss banking system بھی سن لے!
اب اگر کوئی یہ سمجھے کہ پاکستان اب Swiss banking system کو چھوڑ کر Crypto wallet میں بیٹھ جائے گا تو ذرا آہستہ چلیں۔
Stablecoin اور traditional banking ایک ہی چیز نہیں۔
Correspondent banking، foreign exchange، custody، compliance اور regulatory oversight کی اپنی دنیا ہے۔
Stablecoin زیادہ تر digital settlement rail کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
یعنی ممکن ہے مستقبل میں کچھ international payments میں راستہ چھوٹا ہو جائے۔
لیکن ابھی یہ کہنا کہ:
"سوئس بینک گئے، USD1 آ گیا”
ایسا ہی ہے جیسے موٹر سائیکل خرید کر بندہ اعلان کر دے کہ اب motorway بھی ختم۔
اصل سوال: دوست کون، کاروباری کون؟
Trump اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات میں صرف Crypto نہیں۔
حالیہ عرصے میں minerals، defense، investment اور دوسرے کاروباری شعبوں میں بھی Trump-family-linked یا امریکی business interests پاکستان کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔
تو پھر سوال بنتا ہے:
کیا Trump پاکستان کو دوست سمجھتے ہیں؟
ممکن ہے سفارتی سطح پر تعلقات میں قربت ہو۔
مگر business کی دنیا میں ایک سنہری اصول ہے:
دوست وہ بھی اچھا، جس کے ساتھ business بھی اچھا ہو۔
پاکستان کے لیے مسئلہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ Trump اسے دوست کہتے ہیں یا business partner۔
مسئلہ یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان اس تعلق سے اپنے لیے کیا نکالتا ہے؟
اگر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ remittances سستی ہوتی ہیں، international settlements تیز ہوتے ہیں، investment آتی ہے، digital financial infrastructure بہتر ہوتا ہے اور regulatory framework مضبوط ہوتا ہے تو پاکستان کے لیے یہ ایک معاشی موقع ہو سکتا ہے۔
اور اگر نتیجہ صرف تصویریں، ملاقاتیں، MoUs اور خوبصورت بیانات نکلے تو پھر ہمیں پرانی پاکستانی کہاوت یاد رکھنی چاہیے:
"نہ ہینگ لگے، نہ پھٹکری، اور رنگ بھی چوکھا” — لیکن یہاں رنگ چوکھا کرنے کے لیے اصل میں کاروبار بھی ہونا چاہیے۔
آخر میں اصل حساب
پاکستان نے FY2025 میں $38.3 ارب remittances حاصل کیں۔
دنیا میں remittances کی اوسط cost 6.36 فیصد ہے۔
اگر مستقبل میں regulated digital rails کے ذریعے اس cost میں نمایاں کمی آتی ہے تو پاکستان کے لیے اربوں ڈالر کے scale پر معاشی فائدہ ممکن ہے۔
لیکن ابھی:
$2 ارب کی saving نہیں ہوئی۔
USD1 پر $38.3 ارب منتقل نہیں ہو رہے۔
پاکستان کی banking system Crypto پر منتقل نہیں ہوئی۔
اور Trump کی دوستی بھی کوئی audited balance sheet نہیں۔
ابھی ایک MoU ہے، ایک business model ہے، ایک بڑا remittance market ہے اور ایک ایسی دنیا ہے جہاں Washington کی diplomacy اور Wall Street کی business language کبھی کبھی ایک ہی جملے میں آ جاتی ہیں۔
پاکستان کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس پوری کہانی میں صرف "دوست” نہ بنے۔
اگر کاروبار ہونا ہے تو حساب بھی پاکستان کے حق میں ہونا چاہیے۔
کیونکہ بین الاقوامی سیاست میں دوستی کی قیمت ہمیشہ جذبات سے نہیں، کبھی کبھی transaction fee سے بھی معلوم ہوتی ہے۔
