“بسنت کم بیک: لاہور، نظم اور ‘اعتماد’ کی جیت”
لاہور کی فضا میں اس بار جو رنگ بکھرے، وہ صرف پتنگوں کے نہیں تھے بلکہ نظم، اعتماد اور اجتماعی خوشی کے تھے۔
بیس برس بعد بسنت کی واپسی محض ایک ثقافتی ایونٹ نہیں تھی، بلکہ یہ حکومت، انتظامیہ اور عوام—تینوں کے لیے ایک بڑا امتحان تھا۔
اور حقیقت یہ ہے کہ یہ امتحان کامیابی سے پاس ہوا۔
تین دن تک جاری رہنے والا بسنت فیسٹیول اس بات کا ثبوت بن گیا کہ اگر منصوبہ بندی مضبوط ہو تو بڑے سے بڑا عوامی ایونٹ بھی بخوبی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں زندگی لوٹ آئی، چھتوں پر قہقہے گونجے اور آسمان رنگین پتنگوں سے بھر گیا۔
اتنے بڑے اجتماع میں چند چھوٹے واقعات کے سوا کسی بڑے سانحے کا نہ ہونا کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ مربوط انتظامات کا ثمر تھا۔
اس کامیابی میں لاہور کے ڈپٹی کمشنر اور ضلعی انتظامیہ کا کردار نمایاں رہا۔
ڈی سی لاہور کی قیادت میں انتظامیہ نے جس مستعدی، پیشہ ورانہ مہارت اور ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا، وہ ہر سطح پر نظر آیا۔
سیکیورٹی پلان ہو، ٹریفک مینجمنٹ، کنٹرول رومز، ہسپتالوں کی تیاری یا فیلڈ میں افسران کی موجودگی—ہر چیز واضح پیغام دے رہی تھی کہ ریاست متحرک ہے۔
سیکیورٹی انتظامات غیر معمولی طور پر مؤثر رہے۔
پولیس، ریسکیو اور دیگر ادارے ایک متحد ٹیم کی صورت میں کام کرتے دکھائی دیے۔
ہر حساس مقام پر کڑی نظر رکھی گئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام نے خود کو محفوظ محسوس کیا اور بے خوف ہو کر خوشیاں منائیں۔
بسنت نے سب سے زیادہ خوشی عام لوگوں کو دی۔
وہ تہوار جو برسوں سے صرف یادوں میں زندہ تھا، اس بار حقیقت بن کر سامنے آیا۔
بچوں کی آنکھوں میں چمک، بزرگوں کے چہروں پر مسکراہٹ اور نوجوانوں کے رویّے میں ذمہ داری صاف جھلک رہی تھی۔
یہ منظر اس بات کا ثبوت تھا کہ جب عوام پر اعتماد کیا جائے تو وہ اعتماد توڑتے نہیں۔
ایک خوبصورت پہلو یہ بھی رہا کہ بسنت کے دوران سیاسی اور سماجی اختلافات پس منظر میں چلے گئے۔
چھتوں پر صرف خوشی، رنگ اور قہقہے نظر آئے۔
یہ سماجی ہم آہنگی ایک مثبت پیغام ہے کہ تہوار نفرت نہیں، فاصلے کم کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اس فیصلے سے واضح کر دیا کہ وہ آسان نہیں بلکہ درست فیصلوں پر یقین رکھتی ہیں۔
بسنت پر مکمل پابندی سب سے آسان راستہ تھا، مگر انہوں نے منظم، محفوظ اور ذمہ دار بسنت کا تصور دیا۔
انہوں نے عوام پر اعتماد کیا—اور عوام نے اس اعتماد کو سچ کر دکھایا۔
یہ کامیابی کسی ایک شخصیت کی نہیں۔
یہ کریڈٹ وزیر اعلیٰ، لاہور کے ڈی سی، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور تمام متعلقہ اداروں کو جاتا ہے۔
یہی ٹیم ورک اصل حکمرانی کی پہچان ہوتا ہے۔
بسنت کی کامیابی نے یہ پیغام واضح کر دیا ہے کہ ہم اپنی ثقافت، روایات اور خوشیوں کو محفوظ انداز میں زندہ رکھ سکتے ہیں۔
یہ تین دن کی خوشی نہیں بلکہ ایک ماڈل ہے—جو مستقبل میں دیگر ثقافتی سرگرمیوں کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس بسنت نے لاہور کو صرف رنگ نہیں دیے بلکہ اعتماد، امید اور خود اعتمادی دی۔
جب مضبوط قیادت، فعال انتظامیہ اور ذمہ دار عوام اکٹھے ہو جائیں تو
ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔
