پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن گیا، بھارکینا فاسو پیچھے رہ گیا
پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار، عالمی رپورٹ میں بھارکینا فاسو کو پیچھے چھوڑ دیا
اسلام آباد (رپورٹ) — عالمی ادارے انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس (IEP) کی جاری کردہ "گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026” کے مطابق پاکستان 2025 میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن گیا ہے، جس نے اس فہرست میں پہلے نمبر پر موجود بھارکینا فاسو کو پیچھے چھوڑ دیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا "جی ٹی آئی سکور” 8.574 ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 1,139 افراد جاں بحق اور 1,595 زخمی ہوئے، جبکہ ملک بھر میں دہشت گردی کے 1,045 واقعات رپورٹ ہوئے۔ دہشت گردی سے ہلاکتوں کی شرح میں مسلسل چھٹے سال اضافہ دیکھا گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً چھ فیصد زیادہ ہے، البتہ حملوں کی مجموعی تعداد میں معمولی کمی واقع ہوئی جو 2024 کے 1,098 سے کم ہو کر 1,045 رہ گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ 2025 میں یرغمال بنائے جانے والوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا، جو 2024 کے 101 سے بڑھ کر 655 تک جا پہنچی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا وہ صوبے ہیں جو سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جہاں 2025 کے دوران ملک بھر کے 74 فیصد حملے اور 67 فیصد ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) مسلسل پانچویں سال بھی ملک کی خطرناک ترین عسکریت پسند تنظیم رہی، جو دہشت گردی سے ہونے والی 56 فیصد ہلاکتوں کی ذمہ دار ٹھہری۔ تنظیم نے 2025 میں 595 حملے کیے جن میں 637 افراد ہلاک ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا بھی ذکر کیا گیا، جسے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن کے قریب ٹرین کی پٹریاں بم سے اڑا کر 442 مسافروں کو یرغمال بنانے کے واقعے کا ذمہ دار قرار دیا گیا، جس میں 21 یرغمالی، چار فوجی اہلکار اور 33 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق بی ایل اے نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت جاری چینی منصوبوں اور شہریوں کو بھی نشانہ بنایا۔
رپورٹ میں پاکستان کے افغانستان اور بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات کا بھی حوالہ دیا گیا۔ پاکستان طویل عرصے سے افغان حکومت پر ٹی ٹی پی کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا آیا ہے، جسے کابل مسترد کرتا ہے۔ رپورٹ میں مئی 2025 میں بھارتی فضائیہ کی جانب سے پاکستانی شہروں پر میزائل حملوں اور اس کے جواب میں پاکستانی فوج کی جوابی کارروائی کا بھی ذکر کیا گیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپریشن عزم استحکام سمیت متعدد اقدامات کیے ہیں، تاہم ان کے نتائج تاحال محدود رہے ہیں۔
