9
میں نے اسلام آباد میں دس سال تک صحافت کی اور اس دوران اقتدار کے ایوانوں کے اتار چڑھاؤ اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ حکومتیں بدلتی رہیں پالیسیوں کے رخ بدلتے رہے اور بیوروکریسی کے اندر کام کرنے والے لوگوں کی محنت سوچ اور نظام کو چلانے کی کوششیں بھی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ میں نے بہت سے اعلیٰ افسران اور وزراء کے ساتھ پیشہ ورانہ تعلقات میں وقت گزارا اور ان کے کام کرنے کے انداز کو نہ صرف سمجھا بلکہ تحقیق کے ساتھ رپورٹ بھی کیا۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگ بیوروکریسی میں بھی میرے پاس رہنمائی اور ریسرچ کے لیے آتے رہے۔ یہ ایک ایسا اعتماد تھا جو وقت کے ساتھ مضبوط ہوتا گیا۔
میں نے اسلام آباد میں دس سال تک صحافت کی اور اس دوران اقتدار کے ایوانوں کے اتار چڑھاؤ اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ حکومتیں بدلتی رہیں پالیسیوں کے رخ بدلتے رہے اور بیوروکریسی کے اندر کام کرنے والے لوگوں کی محنت سوچ اور نظام کو چلانے کی کوششیں بھی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ میں نے بہت سے اعلیٰ افسران اور وزراء کے ساتھ پیشہ ورانہ تعلقات میں وقت گزارا اور ان کے کام کرنے کے انداز کو نہ صرف سمجھا بلکہ تحقیق کے ساتھ رپورٹ بھی کیا۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگ بیوروکریسی میں بھی میرے پاس رہنمائی اور ریسرچ کے لیے آتے رہے۔ یہ ایک ایسا اعتماد تھا جو وقت کے ساتھ مضبوط ہوتا گیا۔
بیماری کی وجہ سے مجھے اسلام آباد کو چھوڑنا پڑا مگر صحافت سے تعلق کمزور نہیں ہوا۔ اب میں لاہور میں مقیم ہوں اور یہاں سے جب بھی بیوروکریسی اور انتظامی ڈھانچے کے کام کو قریب سے دیکھتی ہوں تو ایک مثبت فرق واضح نظر آتا ہے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ لاہور آج ایک متحرک اور بدلتا ہوا شہر ہے جہاں ترقی کے نئے در کھل رہے ہیں۔
لاہور کی اس تبدیلی کا ایک بڑا حوالہ وزیر اعلیٰ پنجاب Maryam Nawaz کا وژن ہے۔ ان کی قیادت میں پنجاب خصوصاً لاہور میں ترقیاتی کاموں کی رفتار اور سمت دونوں میں واضح بہتری آئی ہے۔ اگر آپ لاہور کی گلیوں اور محلوں میں جائیں تو ایک نئی روح محسوس ہوتی ہے۔ سڑکوں کی بہتری، صفائی کے نظام میں اصلاحات اور شہری سہولتوں کی بحالی جیسے اقدامات نے شہری زندگی میں ایک نیا اعتماد پیدا کیا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی بڑے شہر کی ترقی صرف ایک فرد کا کارنامہ نہیں ہوتی بلکہ پوری ٹیم اس کے پیچھے ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ کے ساتھ ساتھ مقامی انتظامیہ اور فیلڈ میں کام کرنے والے افسران کا کردار بھی نہایت اہم ہوتا ہے جو روزمرہ بنیادوں پر فیصلوں کو زمین تک پہنچاتے ہیں اور انہیں عملی شکل دیتے ہیں۔
اس حوالے سے لاہور کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن علی اعجاز کا کردار خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ وہ وزیراعلیٰ کے وژن کے مطابق خود فیلڈ میں موجود رہتے ہیں اور انتظامی امور کی براہ راست نگرانی کرتے ہیں۔ حالیہ پولیو مہم میں ان کی متحرک موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ صرف دفتری سطح پر نہیں بلکہ زمینی حقائق کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ لاہور کے وہ علاقے جو ماضی میں اکثر توجہ سے محروم رہتے تھے، وہاں بھی اب عملی اقدامات نظر آتے ہیں۔ گلیوں اور محلوں کے دورے، موقع پر جا کر مسائل کا جائزہ لینا اور فوری ایکشن لینا ایک نئے طرز حکمرانی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ وہ پہلو ہے جو شہریوں کے اعتماد کو بحال کرتا ہے اور انتظامیہ کو عوام کے قریب لاتا ہے۔
لاہور کی یہ تبدیلی کسی ایک دن کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل محنت، بہتر وژن اور زمینی سطح پر موجودگی کا ثمر ہے۔ یہی وہ امتزاج ہے جو کسی بھی شہر کو حقیقت میں ترقی کی راہ پر گامزن کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج لاہور میں ایک نئی امید اور ایک نئی صبح محسوس کی جا سکتی ہے۔
✍️ شکیلہ فاطمہ