کوپن ہیگن:
ڈنمارک کی وزیراعظم میٹ فریڈیرکسن (Mette Frederiksen) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر قبضے سے متعلق دھمکیاں فوری بند کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو گرین لینڈ یا ڈنمارک کی کسی بھی ریاست کو ضم کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔
میٹ فریڈیرکسن نے واضح الفاظ میں کہا کہ
’’قریبی اتحادی ملک کے خلاف اس نوعیت کی دھمکیاں ناقابلِ قبول ہیں۔ گرین لینڈ اور اس کے عوام فروخت کے لیے نہیں ہیں۔‘‘
ڈنمارک کی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ ایک خودمختار خطہ ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف وہاں کے عوام کو کرنے کا حق حاصل ہے، کسی بیرونی طاقت کو نہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے وینزویلا میں فوجی کارروائی کے بعد صدر مادورو کو گرفتار کیا اور صدر ٹرمپ نے اقتدار کی منتقلی تک وینزویلا کے معاملات خود چلانے کا اعلان کیا ہے، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ ماہ بھی گرین لینڈ سے متعلق متنازع بیان دے چکے ہیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ
’’ہمیں گرین لینڈ معدنیات کے لیے نہیں بلکہ دفاعی ضروریات کے لیے چاہیے۔‘‘
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد یورپی ممالک میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور اب ڈنمارک کی وزیراعظم نے ایک بار پھر گرین لینڈ کی خودمختاری پر کسی قسم کے سمجھوتے کو مسترد کر دیا ہے۔
