تہران:
ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی نے ایرانی عوام سے ملک گیر احتجاج، سڑکوں پر نکلنے اور قومی ہڑتالوں کو مزید وسعت دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور اس کی سڑکیں ایرانی عوام کی ملکیت ہیں۔
اپنے ایک پیغام میں رضا پہلوی نے کہا کہ عوام کی سڑکوں پر موجودگی ہی وہ عنصر ہے جس نے قومی انقلاب کی چنگاری کو تقویت دی ہے، اور اب اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے مسلسل، منظم اور وسیع عوامی موجودگی ناگزیر ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ:
“سڑکوں پر موجودگی، اس کا تسلسل، اس کی توسیع اور عوام کا سڑکوں پر کنٹرول حاصل کرنا اس وقت سب سے اہم اور فیصلہ کن ترجیح ہے۔”
مختلف شعبوں سے ہڑتالوں کی اپیل
سابق ولی عہد نے معاشرے کے مختلف طبقات سے اپیل کی کہ وہ ہمہ گیر ہڑتالوں اور احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کریں۔
انہوں نے خاص طور پر درج ذیل شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو مخاطب کیا:
- سرکاری ملازمین
- توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کے ورکرز
- ٹرک ڈرائیورز
- نرسیں اور طبی عملہ
- اساتذہ اور ماہرینِ تعلیم
- صنعت کار اور کاروباری افراد
- ریٹائرڈ افراد
- مہنگائی اور معاشی دباؤ سے متاثرہ شہری
رضا پہلوی نے کہا کہ:
“تمام طبقات متحد ہو کر اس قومی تحریک کا حصہ بنیں تاکہ ایران کو آزادی، آزادانہ انتخابات اور قانون کی حکمرانی کی طرف لے جایا جا سکے۔”
متعدد ایرانی شہروں کے عوام کو احتجاج کی دعوت
رضا پہلوی نے اپنے بیان میں ایران کے مختلف شہروں کا نام لے کر وہاں کے شہریوں کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دی، جن میں شامل ہیں:
تہران، کرج، قزوین، رشت، ساری، گرگان، سمنان، بجنورد، مشہد، بیرجند، زاہدان، کرمان، یزد، شیراز، بندر عباس، بوشہر، یاسوج، اہواز، شہر کرد، اصفہان، خرم آباد، ایلام، کرمانشاہ، سنندج، ارومیہ، تبریز، اردبیل، زنجان، ہمدان، اراک اور قم۔
انہوں نے کہا کہ یہ تحریک کسی ایک شہر یا طبقے تک محدود نہیں بلکہ پورے ایران کی مشترکہ جدوجہد ہے۔
آزادانہ انتخابات اور قانون کی حکمرانی پر زور
سابق ولی عہد نے واضح کیا کہ ان کا مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ ایران کو ایک ایسے نظام کی طرف لے جانا ہے جہاں:
- آزاد اور شفاف انتخابات ہوں
- قانون کی حکمرانی قائم ہو
- عوام کو اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کا حق حاصل ہو
سیاسی مبصرین کے مطابق رضا پہلوی کا یہ بیان ایران میں جاری سیاسی بے چینی اور عوامی ناراضی کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔
