لاہور:
پنجاب حکومت نے ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے اہم اور تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے تمام سرکاری محکموں میں پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کی خریداری پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس فیصلے کے تحت آئندہ پنجاب کے سرکاری محکمے صرف الیکٹرک یا ہائبرڈ گاڑیاں خرید سکیں گے، تاہم فیلڈ ڈیوٹی پر استعمال ہونے والی گاڑیوں کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
الیکٹرک گاڑیوں کو ترجیح
چیف سیکرٹری پنجاب کے مطابق یہ فیصلہ صوبے میں گرین انرجی اور ماحول دوست پالیسیوں کے فروغ کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ:
“ماحولیاتی تحفظ پنجاب حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ٹرانسپورٹ سیکٹر میں گرین انرجی کا فروغ ناگزیر ہو چکا ہے۔”
پیٹرول پمپس کے لیے نئی شرط
چیف سیکرٹری نے مزید بتایا کہ:
- نئے پیٹرول پمپس کی این او سی اب الیکٹرک چارجنگ یونٹ سے مشروط ہوگی
- الیکٹرک چارجنگ یونٹ کے بغیر نئے پیٹرول پمپ کو کام کی اجازت نہیں دی جائے گی
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اضافہ ہوگا بلکہ صوبے میں ماحول دوست انفراسٹرکچر کو بھی فروغ ملے گا۔
170 نئے پیٹرول پمپس پر الیکٹرک چارجنگ لازمی
چیف سیکرٹری پنجاب کے مطابق:
- این او سی حاصل کرنے والے 170 نئے پیٹرول پمپس پر الیکٹرک چارجنگ اسٹیشنز کی تنصیب لازمی قرار دے دی گئی ہے
- پنجاب کے 31 شہروں میں 170 نئے پیٹرول پمپس کے لیے ای بز پورٹل کے ذریعے این او سیز جاری کی جا چکی ہیں
نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی جلد متوقع
پنجاب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں نئی الیکٹرک وہیکل (EV) پالیسی جلد متعارف کرائی جائے گی، جس کا مقصد:
- فضائی آلودگی میں کمی
- ایندھن کے درآمدی بل میں کمی
- جدید اور پائیدار ٹرانسپورٹ سسٹم کا قیام
حکومتی حلقوں کے مطابق یہ پالیسی پنجاب کو ماحول دوست صوبہ بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ثابت ہوگی۔
