کراچی کے مصروف ترین علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ 33 گھنٹے کی مسلسل جدوجہد کے بعد مکمل طور پر بجھا دی گئی۔ ریسکیو حکام کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران مزید 8 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہوگئی، جبکہ 22 افراد زخمی ہیں۔
آگ ہفتے کی رات سوا 10 بجے گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر لگی، جو دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پھیل گئی۔ شدید آتشزدگی کے باعث عمارت کے کئی حصے منہدم ہوگئے جبکہ پلرز کمزور ہونے سے عمارت کو کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ لاحق ہے۔
سرچ اور ریسکیو آپریشن
فائر فائٹرز نے 20 سے زائد فائر ٹینڈرز اور اسنارکلز کی مدد سے آگ بجھانے کی کوششیں جاری رکھیں۔ آگ پر قابو پانے کے بعد فائر فائٹرز نے پلازہ کے اندر داخل ہو کر محدود پیمانے پر سرچ آپریشن کیا۔ اس دوران ایک بچے سمیت 3 افراد کے اعضا ملے جنہیں سول اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق آگ کی شدت کے باعث عمارت میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور اندر داخل ہونا انتہائی خطرناک ہے۔ کئی دکانیں مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوچکی ہیں، جبکہ پلازہ میں 1200 سے زائد دکانیں موجود تھیں۔
لاپتہ افراد اور اہلِ خانہ کی بے بسی
واقعے کے بعد 60 سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ پولیس نے اہلِ خانہ سے لاپتہ افراد کے موبائل نمبرز حاصل کر لیے ہیں، جن میں سے 20 سے زائد نمبرز کی آخری لوکیشن گل پلازہ کے اندر پائی گئی ہے۔ متاثرہ خاندان کئی گھنٹوں تک جلتی عمارت کے باہر اپنے پیاروں کی راہ تکتے رہے۔
اعلیٰ حکام کا ردِعمل
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے واقعے کی تفصیلات معلوم کیں اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
صدر مملکت نے شہید فائر فائٹر فرقان شوکت کی بہادری کو سراہتے ہوئے انہیں سول ایوارڈ دینے کی ہدایت کی، جبکہ وزیراعظم نے متاثرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بھی گل پلازہ کا دورہ کیا اور امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت دی۔
اربوں روپے کا نقصان
صدر گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن کے مطابق آتشزدگی سے اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن نے واقعے پر آج یومِ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔
