کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت کراچی کے عوام کی نسل کشی کی جا رہی ہے، اب مزید برداشت ممکن نہیں، لہٰذا وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 148 کے تحت کراچی کو وفاق کا حصہ قرار دے۔
کراچی کے علاقے بہادرآباد میں ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ شہر ایسا نہیں تھا، کتنے لوگ مریں، کتنے حادثات ہوں، یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ نسل کشی کا مسئلہ بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسانوں کو تسلیاں دینا کافی نہیں، ایم کیو ایم ایک بڑی جماعت ہے اور اپنی ذمہ داری کو اچھی طرح سمجھتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کس لہجے میں بات ہو رہی ہے بلکہ یہ ہے کہ کیا کہا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے ریاست سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کو وفاق کے تحت لیا جائے کیونکہ موجودہ ایڈمنسٹریشن کے پاس یہ شہر مزید نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں آئے دن آتشزدگی، سیوریج حادثات اور اموات معمول بن چکی ہیں، بچے گٹروں میں گر کر جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی سندھ حکومت سے شکایت کی جاتی ہے تو جواب ملتا ہے کہ ماضی کے واقعات کا حساب دو، حالانکہ 18 سال سے صوبے میں ان کی حکومت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم نے ریاست کے ساتھ کھڑے ہو کر ’را‘ کا اسلحہ جمع کر کے اداروں کے حوالے کیا، لیکن ریاست تین دہائیوں تک شہر کو اس تسلط سے آزاد نہ کرا سکی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم بھی کراچی کے لیے کچھ کرنا چاہیں تو سیاسی مجبوریاں آڑے آ جاتی ہیں، کیونکہ حکومت کو چلانے کے لیے پیپلز پارٹی کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ نقصان کراچی کے عوام اٹھا رہے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے واضح الفاظ میں کہا کہ اب بہت ہو چکا، یہ نظام نہیں سدھرے گا، کراچی کو فیڈرل ٹیریٹری بنایا جائے، فنانشل کیپیٹل ڈکلیئر کیا جائے اور 18ویں ترمیم کو ختم کیا جائے کیونکہ یہی ترمیم ملک کے لیے ناسور بن چکی ہے۔
