وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وادی تیراہ سے نقل مکانی کے معاملے پر اتوار کے روز جمرود فٹبال اسٹیڈیم میں پورے ضلع خیبر میں بسنے والی اقوام کا گرینڈ جرگہ بلانے کا اعلان کر دیا ہے۔
منگل کے روز وزیرِ اعلیٰ کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں جاری صورتحال اور نقل مکانی کے معاملے پر تفصیلی ویڈیو پیغام جاری کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے سنگین نتائج آج عوام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے مشترکہ جرگے میں متفقہ طور پر یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ فوجی آپریشن مسئلے کا حل نہیں، بلکہ دہشت گردی کا خاتمہ بات چیت، مشاورت اور جرگہ سسٹم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ کور کمانڈر پشاور اور آئی جی ایف سی کی سربراہی میں 24 رکنی مقامی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس کے جرگوں میں کہا گیا کہ جب تک مقامی آبادی موجود ہے، تیراہ میں آپریشن ممکن نہیں، اس لیے لوگوں کو علاقے سے نکالنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ قوم نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا، تاہم شدید دباؤ اور سخت سردی و برفباری کے موسم میں لوگوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔ وزیرِ اعلیٰ کے مطابق آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ بوڑھے، بچے اور خواتین شدید برفباری میں نقل مکانی پر مجبور ہیں، جبکہ موسم کی شدت کے باعث خود آپریشن بھی نہیں ہو پا رہا۔
وزیرِ اعلیٰ نے مزید دعویٰ کیا کہ 24 رکنی کمیٹی کے اراکین نے آئی جی ایف سی اور کور کمانڈر کے کہنے پر مقامی آبادی سے وعدہ کیا تھا کہ بے دخل ہونے والوں کو دو ماہ کے اندر واپس ان کے علاقوں میں بسایا جائے گا۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ انہوں نے باڑہ کے دورے کے دوران عوام کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ شدید برفباری اور خراب موسم میں دو ماہ کے اندر واپسی ممکن نظر نہیں آتی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اتوار کو ہونے والے گرینڈ جرگے میں عوام سے براہِ راست پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اپنی مرضی سے نقل مکانی کر رہے ہیں یا انہیں زبردستی بے دخل کیا گیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت متاثرین کی دیکھ بھال کے لیے چار ارب روپے جاری کر چکی ہے، تاہم ان کے بقول وفاق کو یہ اقدام ہضم نہیں ہو رہا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے باوجود بدامنی ختم نہیں ہو سکی تو مزید آپریشن سے کون سے مثبت نتائج حاصل ہوں گے؟
دوسری جانب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے وفاقی حکومت کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ فوج خیبر پختونخوا کے علاقے وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں کر رہی، اور صوبائی حکومت اپنی ناکامی کا سارا ملبہ فوج یا ایسے آپریشن پر ڈال رہی ہے جس کا وجود ہی نہیں۔
وفاقی وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس 11 دسمبر کو ایک جرگہ علاقے میں موجود تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے پاس گیا تھا، جس نے نقل مکانی کے معاملے پر بات چیت کی۔ ان کے مطابق بعد ازاں یہ جرگہ حکومت سے بھی ملا اور 24 اور 31 دسمبر کو بھی حکومتی حکام سے ملاقاتیں کی گئیں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ممکن ہے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کو ان ملاقاتوں کی مکمل معلومات نہ ہوں، تاہم جرگہ ٹی ٹی پی اور حکومت دونوں سے رابطے میں رہا۔
