ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کی تازہ داخلی صورتحال پر بات چیت کے لیے جمعہ کے روز ترکیہ کا دورہ کریں گے۔ ترک وزارتِ خارجہ کے ایک ذریعے کے مطابق عباس عراقچی انقرہ میں اپنے ترک ہم منصب حاکان فیدان سے ملاقات کریں گے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ تناؤ، خطے کی سلامتی، جوہری پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تہران جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر مذاکرات کی میز پر نہ آیا تو اگلا امریکی حملہ پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگا۔ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی کا بھی اعلان کیا اور ایران کو خبردار کیا کہ حکومت مخالف مظاہرین کو قتل کرنے یا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کے سنگین نتائج ہوں گے۔
ایران میں حالیہ دنوں میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کی گرفتاری اور ہلاکتوں کے بعد تہران نے امریکہ اور اسرائیل کو ان بدامنیوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ مظاہرے 1979 کے انقلاب کے بعد سب سے بڑے احتجاج تھے۔
جواباً ایران نے امریکہ، اسرائیل اور ان کے حامیوں کے خلاف سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔
ترکیہ، جو نیٹو کا رکن اور ایران کا ہمسایہ ملک ہے، پہلے ہی کسی بھی غیر ملکی فوجی مداخلت کی مخالفت کر چکا ہے۔ انقرہ کا کہنا ہے کہ ایران میں عدم استحکام خطے کی برداشت سے باہر ہوگا اور اس کے عالمی سطح پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
ترک وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق حاکان فیدان عباس عراقچی کو آگاہ کریں گے کہ ایران کا امن، سلامتی اور استحکام ترکیہ کے لیے انتہائی اہم ہے۔ وہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کی مخالفت کو دوٹوک انداز میں دہراتے ہوئے خبردار کریں گے کہ ایسی کارروائی عالمی سطح پر خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
ملاقات میں ترک وزیر خارجہ اس بات پر بھی زور دیں گے کہ ترکیہ ایران کے جوہری پروگرام کے مسئلے کا پرامن اور فوری حل چاہتا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
