پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے سنیچر کو تصدیق کی ہے کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات میں 37 شدت پسند اور 10 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد شہروں میں صبح کے وقت سے ہی دھماکوں اور فائرنگ کی اطلاعات موصول ہونا شروع ہوئیں، جبکہ بعض علاقوں میں زوردار دھماکے بھی سنے گئے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے مطابق بلوچستان میں 12 مختلف مقامات پر دہشت گردوں نے حملے کیے، جن میں کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی اور گوادر شامل ہیں۔
وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کے مختلف آپریشنز میں 88 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل جمعے کو پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران 41 شدت پسند ہلاک کیے گئے۔
کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق سنیچر کو کوئٹہ کے علاوہ نوشکی، مچھ، مستونگ اور پسنی میں بھی شدت پسند کارروائیوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کوئٹہ شہر کا ریڈ زون سیل کر دیا گیا ہے جبکہ سول سیکریٹریٹ، عدالتوں اور دیگر سرکاری دفاتر میں سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔
بلوچستان میں انسداد دہشت گردی پولیس (سی ٹی ڈی) کے مطابق کوئٹہ کے سریاب روڈ پر ایک کارروائی کے دوران چار مبینہ شدت پسند ہلاک کیے گئے۔
دہشت گردی کے واقعات کے باعث کوئٹہ سے اندرون ملک آنے اور جانے والی ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے، جبکہ کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو جیک آباد میں روک لیا گیا ہے۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور موجودہ صورتحال کے باعث مزید تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔
حملوں کے بعد کوئٹہ شہر میں انٹرنیٹ سروس بند ہے جبکہ سیکیورٹی نگرانی کے لیے ہیلی کاپٹرز فضا میں گشت کر رہے ہیں۔ صوبے بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
