سڈنی:
آسٹریلیا میں اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کے دورے کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد ملکی قیادت نے عوام سے تحمل اور پرامن احتجاج کی اپیل کی ہے۔
پولیس کے مطابق سڈنی ٹاؤن ہال کے قریب ہزاروں مظاہرین جمع تھے، جنہیں منتشر کرنے کی کوشش کے دوران تشدد پھوٹ پڑا۔
ان واقعات میں 27 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں 10 افراد پر پولیس اہلکاروں پر حملے کا الزام ہے۔
آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے تشدد پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
"آسٹریلوی عوام یہاں کسی بیرونی تنازع کو نہیں دیکھنا چاہتے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ چاہے اسرائیلی ہوں یا فلسطینی، قتل و غارت بند ہو، مگر یہ تنازع ہمارے ملک میں منتقل نہ ہو۔”
نیو ساؤتھ ویلز پولیس کا کہنا ہے کہ کسی شدید زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، تاہم حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے آنسو گیس اور مرچوں والا اسپرے استعمال کیا گیا۔
پولیس کو احتجاج کے دوران خصوصی اختیارات دیے گئے تھے، جن کے تحت ہجوم کو ہٹانے، بعض علاقوں میں داخلے پر پابندی اور گاڑیوں کی تلاشی شامل تھی۔
ان پابندیوں کے خلاف دائر درخواست کو سڈنی کی عدالت نے مسترد کر دیا۔
دوسری جانب فلسطین ایکشن گروپ سڈنی نے الزام لگایا کہ مظاہرین کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا اور انہیں نکلنے کا راستہ نہیں دیا گیا۔
گروپ کے مطابق پولیس نے گھوڑوں کے ذریعے دھاوا بولا، بلا امتیاز اسپرے کیا اور لوگوں کو گرفتار کیا۔
ریاستی پارلیمنٹ کی رکن اور گرین پارٹی کی رہنما ابیگیل بوئڈ نے دعویٰ کیا کہ انہیں بھی پولیس نے مکا مارا، جس سے ان کا بازو اور کندھا زخمی ہوا۔
نیو ساؤتھ ویلز کے وزیر اعلیٰ کرس منس اور پولیس کمشنر مال لینن نے پولیس کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اہلکار انتہائی کشیدہ صورتحال میں مشکل فیصلے لینے پر مجبور تھے اور انہوں نے تحمل کا مظاہرہ کیا۔
فلسطین ایکشن گروپ کے سربراہ جوش لیز نے اعلان کیا ہے کہ ان واقعات کے خلاف پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر مزید احتجاج کیا جائے گا۔
