اسلام آباد:
گیلپ پاکستان کے ایک تازہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً تین چوتھائی پاکستانی غزہ میں بین الاقوامی امن فورس بھیجنے کے حق میں ہیں، تاہم اس مشن کے سیاسی فریم ورک اور مستقبل کے حوالے سے کئی اہم سوالات اب بھی موجود ہیں۔
یہ سروے ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وزیراعظم شہباز شریف کے رواں ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جس میں پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک شامل ہیں۔
گیلپ سروے کے مطابق 73 فیصد پاکستانی فوجی دستہ بھیجنے کے حامی ہیں، جن میں 55 فیصد نے بھرپور جبکہ 18 فیصد نے جزوی حمایت کا اظہار کیا۔
صرف 6 فیصد نے مخالفت کی جبکہ 16 فیصد تاحال غیر یقینی کا شکار ہیں۔
گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال گیلانی کے مطابق عوامی رائے اور پالیسی اشرافیہ کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ غزہ میں فوج بھیجنے پر عوام زیادہ متفق ہیں، جبکہ بورڈ آف پیس میں شمولیت پر رائے منقسم ہے۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے وکیل سلمان شاہد کا کہنا ہے کہ پاکستان کو جذباتی فیصلوں کے بجائے قانونی، انسانی اور آئینی فریم ورک میں رہ کر کردار ادا کرنا چاہیے۔
دوسری جانب کراچی کے سافٹ ویئر ڈویلپر مسعود حسین سمجھتے ہیں کہ اگرچہ امن فورس میں شمولیت خطرناک ہو سکتی ہے، لیکن بورڈ آف پیس پاکستان کو سفارتی سطح پر فعال کردار فراہم کر سکتا ہے۔
سروے کے مطابق عوام نے چند شرائط کو لازمی قرار دیا:
86 فیصد نے فلسطینی قیادت کی باضابطہ درخواست،
81 فیصد نے اقوام متحدہ کی منظوری،
اور 64 فیصد نے مسلم ممالک کے مشترکہ اتحاد کو ناگزیر قرار دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مشن حماس کو غیر مسلح کرنے یا کسی یکطرفہ ایجنڈے کا حصہ بنا تو عوامی حمایت برقرار رہنا مشکل ہو جائے گا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان کسی بھی فیصلے سے قبل شفاف مینڈیٹ، انسانی بنیادوں اور غیر جانبدار کردار کو یقینی بنائے گا۔
