واشنگٹن: امریکی صدر Donald Trump نے ایران پر ممکنہ حملے سے متعلق میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعلیٰ امریکی جنرل کی جانب سے جنگ کے خطرات سے آگاہ کرنے کی خبریں “سو فیصد غلط” ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے ایران پر حملے کی صورت میں طویل جنگ، امریکی جانی نقصان اور علاقائی کشیدگی کے سنگین خطرات سے خبردار کیا تھا، تاہم ٹرمپ نے ان رپورٹس کو فیک نیوز قرار دے دیا۔

امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ جنرل ڈین کین نے کبھی ایران کے خلاف کارروائی کی مخالفت نہیں کی بلکہ وہ صرف جیتنے کی حکمت عملی جانتے ہیں اور اگر حکم دیا گیا تو وہ آپریشن کی قیادت کریں گے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جسے ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران پر کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں خطے میں وسیع پیمانے پر تنازع پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام، میزائل پالیسی اور پابندیوں کے معاملات پر مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جبکہ واشنگٹن کی سخت شرائط اور تہران کے مؤقف کے باعث سفارتی حل کی امیدیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی تصادم کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں، جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی تیل منڈی اور عالمی سلامتی کی صورتحال کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
