لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے خبردار کیا ہے کہ ملک کو ایسی مہم جوئی میں نہیں گھسیٹا جائے گا جو اس کی سلامتی اور قومی یکجہتی کے لیے خطرہ بنے۔
وزیراعظم کے بیان کو ایران کی حمایت یافتہ لبنانی مسلح تنظیم حزب اللہ کے لیے بالواسطہ پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
نواف سلام نے خطے میں جاری “سنگین پیش رفت” کا حوالہ دیتے ہوئے تمام لبنانی شہریوں پر زور دیا کہ وہ دانشمندی اور حب الوطنی کا مظاہرہ کریں اور لبنان اور اس کے عوام کے مفاد کو ہر دوسری ترجیح پر فوقیت دیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیل نے لبنان کو متنبہ کیا ہے کہ اگر حزب اللہ کسی ممکنہ امریکہ۔ایران جنگ میں شامل ہوئی تو اسرائیل لبنان میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے، جن میں ہوائی اڈہ بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ حزب اللہ کا قیام 1982 میں ایران کی انقلابی گارڈز کی سرپرستی میں عمل میں آیا تھا اور اس کے بعد سے وہ اسرائیل کے ساتھ متعدد تنازعات میں ملوث رہی ہے۔
سن 2024 کی جنگ کے دوران اسرائیل نے حزب اللہ کو شدید نقصان پہنچایا، جس میں تنظیم کے سربراہ حسن نصراللہ کی ہلاکت، ہزاروں جنگجوؤں کی اموات اور اسلحہ ذخیرے کی بڑی تباہی شامل تھی۔
علاقائی تناظر
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ ایران۔اسرائیل کشیدگی کے تناظر میں لبنان ایک نازک صورتحال سے دوچار ہے، جہاں کسی بھی فریق کی براہِ راست شمولیت ملک کو ایک نئی تباہ کن جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
