اسرائیل نے ایران کے خلاف میزائل حملہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ یہ کارروائی ممکنہ خطرات کو روکنے کے لیے کی گئی۔
اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ ملک بھر کے مختلف علاقوں میں احتیاطی طور پر ایئر ریڈ سائرن بجا دیے گئے تاکہ عوام کو ممکنہ ایرانی جوابی میزائل حملوں کے لیے تیار کیا جا سکے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ پیشگی اقدام ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے تناظر میں کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کارروائی مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی فوجی محاذ آرائی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ فضائی جنگ ہو چکی ہے۔ اس کے بعد امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کو بارہا خبردار کیا گیا تھا کہ اگر تہران نے اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا تو دوبارہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔
تاحال ایران کی جانب سے اس پیشگی حملے پر باضابطہ تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم خطے میں کشیدگی میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
علاقائی و عالمی تناظر
مبصرین کے مطابق اگر ایران کی جانب سے جوابی حملہ کیا جاتا ہے تو یہ تصادم وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں اور سفارتی تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔