تہران (ویب ڈیسک):
ایران کے سپریم لیڈر Ayatollah Ali Khamenei کی ہلاکت کی اطلاعات کو لے کر عالمی سطح پر متضاد دعوے سامنے آئے، لیکن اب ایرانی ریاستی میڈیا اور خبر رساں ادارے تسنیم اور فارس نیوز نے بھی ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے کہ خامنہ ای ہلاک ہوچکے ہیں، اور ملک بھر میں 40 دن کا عوامی سوگ منانے کا اعلان کیا گیا ہے — ایک روایت جو روایتی سوگ کے دورانیے کا احترام کرتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ مشترکہ فضائی کارروائیوں میں ایران کے اعلیٰ سیاسی و عسکری حکام سمیت سپریم لیڈر بھی نشانہ بنے، جس کے بعد متعدد ایرانی صوبوں میں شدید ردعمل اور کشیدگی پائی جارہی ہے۔
ایرانی ریاستی ٹی وی نے بتایا ہے کہ 40 دن تک سوگ منایا جائے گا، جس میں قومی اور مذہبی رسومات شامل ہوں گی۔ یہ عرصہ ایران میں ماضی میں کسی اہم رہنما کی ہلاکت کے بعد سوگ کی روایت کے عین مطابق ہے۔
یہ اعلان ایسی صورتحال میں سامنے آیا ہے جب عالمی اور امریکی ذرائع بھی خامنہ ای کی ہلاکت کا دعویٰ کر رہے ہیں، جبکہ بعض ایرانی حکام نے پہلے اس دعوے کی تردید کی تھی۔ تاہم، اب ریاستی میڈیا کی رپورٹ کے بعد صورتحال ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
کشیدگی کےباعث ایران، خلیجی ممالک، اور مغربی دنیا میں سفارتی دباؤ اور تجزیاتی تبصرے جاری ہیں، اور ایران کے مستقبل کی قیادت کے بارے میں سوالات زور پکڑ رہے ہیں۔
اہم: اس تازہ ترین اعلان کے باوجود، بعض غیر سرکاری ذرائع اب بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ خامنہ ای زندہ ہیں یا ان کے حالات غیر واضح ہیں — صورتحال میں تاحال غیر یقینی عنصر برقرار ہے۔
