بیروت / تل ابیب: Israel اور Lebanon کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی نافذ ہو گئی ہے، جس سے ایک تباہ کن تنازع وقتی طور پر رک گیا ہے جس میں اب تک 21 سو سے زائد افراد ہلاک اور 12 لاکھ سے زیادہ لبنانی شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔
امریکی صدر Donald Trump کے مطابق یہ معاہدہ اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu اور لبنانی صدر Joseph Aoun کے درمیان مذاکرات کے بعد طے پایا۔
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ دونوں رہنماؤں کو مزید بامعنی بات چیت کے لیے وائٹ ہاؤس مدعو کیا گیا ہے، تاکہ اس عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کیا جا سکے۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے معاہدے کا خیر مقدم کیا جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اسے امن کے لیے “تاریخی موقع” قرار دیا، تاہم انہوں نے جنوبی لبنان سے فوجی انخلا سے انکار کیا ہے۔
جنگ بندی کے نفاذ سے قبل Hezbollah اور اسرائیلی افواج کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں، اور دونوں جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ خلاف ورزی کی صورت میں دفاع کا حق محفوظ ہوگا۔
ماہرین کے مطابق یہ جنگ بندی ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن مستقل امن کے لیے زمینی حقائق، خاص طور پر جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی اور سیکیورٹی خدشات، ابھی بھی بڑے چیلنجز ہیں۔
