رپورٹ:ثمر اقبال، شیخوپوراہ
شیخوپورہ:
پنجاب کے ضلع Sheikhupura میں محکمہ مال کی تاریخ کے ایک بڑے مالیاتی سکینڈل کا انکشاف ہوا ہے، جس میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے چار سرکاری اہلکاروں سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
حکام کے مطابق گرفتار افراد میں رجسٹری برانچ کے کلرک اویس کمبوہ، رانا نذر احمد، کمپیوٹر آپریٹرز ہمایوں خان اور فرحان علی جبکہ وثیقہ نویس عاصم سلیم ہنجرا شامل ہیں۔
مزید ملزمان، جن میں سابق سب رجسٹرار آصف جاوید ورک بھی شامل ہیں، کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سکینڈل میں ایف بی آر، بورڈ آف ریونیو اور بلدیاتی اداروں کو تقریباً 8 ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے قیمتی جائیدادوں کو جعلی طور پر خالی پلاٹ ظاہر کر کے رجسٹریاں پاس کیں، جس سے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان ہوا۔
تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ کئی بڑے پلازوں اور عمارتوں کو کاغذات میں خالی زمین ظاہر کیا گیا، جبکہ حقیقت میں وہاں کئی سالوں سے تعمیرات موجود تھیں۔ گزشتہ دو سال میں تقریباً 31 ہزار کم مالیت ظاہر کر کے رجسٹریاں کرنے کا بھی انکشاف سامنے آیا ہے۔
یہ معاملہ ایک شہری عبدالرحمن کی درخواست پر سامنے آیا، جس نے الزام لگایا کہ اس کی قیمتی اراضی جعلسازی کے ذریعے کسی اور کے نام منتقل کر دی گئی، حالانکہ وہ خود کبھی رجسٹری کے عمل میں شامل ہی نہیں ہوا۔
ذرائع کے مطابق اس بڑے سکینڈل کی تحقیقات National Accountability Bureau کو منتقل کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ مزید انکشافات اور گرفتاریوں کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔
گرفتاریوں کے بعد رجسٹری برانچ میں کام کرنے والے ٹاؤٹس اور دیگر مشتبہ افراد غائب ہونا شروع ہو گئے ہیں، جبکہ ضلع بھر میں رجسٹری نظام کی چھان بین کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔
