Table of Contents
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب صرف سرحدوں اور فوجی محاذوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ تعلیم جیسے بنیادی شعبے کو بھی براہِ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارے (West Bank) میں حالیہ واقعات نے ایک تشویشناک رجحان کو مزید واضح کر دیا ہے جہاں اسکول، طلبہ اور اساتذہ بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
کیا ہوا؟ ایک واقعہ، مگر بڑی تصویر
14 سالہ طالب علم Aws al-Naasan کو اس کے اسکول کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا گیا—یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ اس وسیع تر تشدد کی علامت ہے جو فلسطینی تعلیمی نظام کو متاثر کر رہا ہے۔
- فائرنگ اسکول کے قریب ہوئی
- طلبہ خوف کے عالم میں عمارت کے اندر چھپ گئے
- اسی حملے میں ایک اور شہری بھی جاں بحق ہوا
یہ سب کچھ ایسے ماحول میں ہوا جہاں طلبہ کے لیے اسکول جانا بھی خطرے سے خالی نہیں رہا۔
تعلیم پر منظم حملے؟
بین الاقوامی اداروں کے مطابق:
- غزہ میں 6 لاکھ سے زائد بچے مسلسل تیسرے سال بھی باقاعدہ تعلیم سے محروم ہیں
- سینکڑوں اساتذہ اور ہزاروں طلبہ ہلاک ہو چکے ہیں
- 90 فیصد اسکول عمارتیں تباہ یا متاثر ہو چکی ہیں
مغربی کنارے میں بھی صورتحال مختلف نہیں:
- اسکولوں کو مسمار کیا جا رہا ہے
- راستوں کو بند کیا جا رہا ہے
- طلبہ کو ڈرانے اور روکنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں
خوف کی فضا: “اسکول جانا یا جان بچانا؟”
طلبہ اور والدین کے لیے سب سے بڑا سوال اب تعلیم نہیں بلکہ حفاظت بن چکا ہے۔
“ہم اسکول جانا چاہتے ہیں، مگر ہمارے گھر والے ڈرتے ہیں” — ایک طالب علم
اساتذہ بھی مسلسل دباؤ میں ہیں:
- چیک پوسٹس پر روکا جانا
- اسکولوں کے قریب فوجی سرگرمیاں
- اچانک حملوں کا خدشہ
بین الاقوامی ردعمل
UNICEF کے مطابق:
- تعلیم پر حملے بچوں کی ذہنی صحت پر دیرپا اثر ڈالتے ہیں
- یہ صرف تعلیمی نقصان نہیں بلکہ نسلوں کے مستقبل کو متاثر کرنے والا بحران ہے
اسی طرح B’Tselem نے ان واقعات کو ایک “منظم پیٹرن” قرار دیا ہے۔
بڑی تصویر: یہ صرف تعلیم کا مسئلہ نہیں
یہ صورتحال تین بڑے پہلوؤں کی نشاندہی کرتی ہے:
1. انسانی بحران:
بچے تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں
2. نفسیاتی اثرات:
خوف، عدم تحفظ اور ذہنی دباؤ
3. سیاسی و عسکری دباؤ:
تعلیم کو بھی ایک “ٹول” کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے
نتیجہ: ایک کھویا ہوا مستقبل؟
حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب اسکول ہی محفوظ نہ رہیں تو:
- ایک پوری نسل پیچھے رہ جاتی ہے
- غربت اور عدم استحکام بڑھتا ہے
- امن کے امکانات مزید کم ہو جاتے ہیں
موجودہ حالات یہ واضح کرتے ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو فلسطینی بچوں کا مستقبل مستقل طور پر متاثر ہو سکتا ہے۔
