بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، مسلمانوں سمیت اقلیتوں پر ظلم معمول بن چکا ہے: صائمہ سلیم
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی کونسلر صائمہ سلیم نے بھارت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت خطے میں دہشت گردی برآمد کرتا ہے — اور یہ کوئی نئی بات نہیں، بلکہ ایک تسلسل ہے جو پورے خطے کے امن کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
سلامتی کونسل میں جاری مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے صائمہ سلیم نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو تفصیل سے اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہاں شہریوں کو قتل کیا جا رہا ہے، بے گناہوں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور لوگوں کو زبردستی بے دخل کیا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ عالمی برادری کی خاموشی کے سائے میں جاری ہے۔
پاکستانی کونسلر نے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کا نام لے کر کہا کہ یہ تنظیمیں بھارت کے پراکسی گروہ ہیں جو پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری کی گئی، جبکہ طالبان حکومت کی جانب سے لگائے گئے الزامات ایک منظم گمراہ کن مہم کا حصہ ہیں۔
صائمہ سلیم نے بھارت کے اندرونی حالات پر بھی بات کی اور کہا کہ وہاں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں پر ظلم و ستم اب روزمرہ کا معاملہ بن چکا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے اور محض بیانات تک محدود نہ رہے۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کے اس اہم پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کے ذمہ دار عوامل کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
