یونیورسٹی روڈ کا کام 90 روز میں مکمل کریں — مراد علی شاہ کا حکم، کو نئی ذمہ داری FWO
کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ 2 کا تعمیراتی کام طویل عرصے سے تاخیر کا شکار تھا۔ اب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واضح ڈیڈ لائن دیتے ہوئے یہ کام 90 روز میں مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ناقص کارکردگی پر پرانا جوائنٹ وینچر معاہدہ منسوخ کر دیا گیا اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو ہنگامی بنیادوں پر یہ منصوبہ سونپ دیا گیا ہے۔
جمعرات کو وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ ڈپارٹمنٹ کی سمری منظور کی گئی جس میں بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ 2 کی تعمیر تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کابینہ کو بریفنگ دی گئی کہ یہ منصوبہ نمائش چورنگی سے موسمیات تک 12.85 کلومیٹر کے حصے پر محیط ہے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ انڈر پاسز، بلند ڈھانچے اور نکاسی آب کا نظام جلد از جلد مکمل کیا جائے اور مکسڈ ٹریفک لینز کے لیے بھی سخت ڈیڈ لائن مقرر کی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی ریڈ لائن مکمل ہونے سے کراچی کی ٹریفک مسائل میں خاطر خواہ کمی آئے گی اور شہریوں کو بہتر سفری سہولت ملے گی۔
اسی اجلاس میں تعلیم کے شعبے سے متعلق بھی اہم فیصلے ہوئے۔ اعلیٰ تعلیم اور فنی تربیت سے متعلق چار اصلاحاتی سمریاں کابینہ نے منظور کیں اور سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی ترمیمی بل 2026 بھی پاس کیا گیا۔ اس بل کے ذریعے فنی تعلیم کے شعبے میں نگرانی کا نظام مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
برسوں سے ادھوری پڑی اس شاہراہ نے کراچی کے شہریوں کو ذہنی اور وقت کا بوجھ اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو منصوبے کی ذمہ داری سونپنا ایک واضح اشارہ ہے کہ حکومت اب نتائج چاہتی ہے — وعدے نہیں۔
