پی سی بی نے سینٹرل کنٹریکٹس کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کر دیا
پاکستان کرکٹ بورڈ نے سینٹرل کنٹریکٹس کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ نئے فارمیٹ کے مطابق کھلاڑیوں کو اب فارمیٹ کی بنیاد پر چار مختلف ٹریکس میں شامل کیا جائے گا، اور کنٹریکٹ کا بڑا حصہ کارکردگی سے منسلک کر دیا گیا ہے۔
بورڈ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ٹریک اے بی میں ٹیسٹ اور ون ڈے کھیلنے والے کرکٹرز شامل ہوں گے، جبکہ ٹریک اے صرف ریڈ بال اسپیشلسٹس کے لیے مخصوص ہے۔ ٹریک بی سی میں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے کھلاڑی آئیں گے، اور ٹریک سی صرف ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے کرکٹرز پر مشتمل ہوگا۔ ٹریک ڈی ڈویلپمنٹ اور اکیڈمی سطح کے ابھرتے کھلاڑیوں کے لیے رکھا گیا ہے۔ سینٹرل کنٹریکٹ میں شمولیت کے لیے میڈیکل فٹنس، ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت اور مجموعی کارکردگی کو بنیاد بنایا جائے گا، اور 85 فیصد کنٹریکٹ کارکردگی کی بنیاد پر دیے جائیں گے۔ پرانے نظام میں کھلاڑیوں کو اے، بی، سی اور ڈی کیٹیگریز میں تقسیم کیا جاتا تھا، تاہم نئے ڈھانچے میں ٹریک اے بی کو پرائم کیٹیگری کا درجہ دیا گیا ہے۔ بورڈ کے مطابق ٹیسٹ اسپیشلسٹس کو مختصر فارمیٹ کی لیگز کھیلنے کی اجازت نہیں ہوگی، تاکہ وہ دنیا کے فرسٹ کلاس ماحول میں زیادہ تجربہ حاصل کر سکیں۔ پاکستانی ٹیسٹ کھلاڑیوں کے لیے ٹی20 لیگز کے دروازے بند رہیں گے۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا کہ کنٹریکٹ کے فیصلے میں 15 فیصد اختیار سلیکشن کمیٹی کے پاس رہے گا اور میڈیکل فٹنس کو سینٹرل کنٹریکٹ کا لازمی حصہ بنا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈومیسٹک کرکٹ سے ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے تاکہ کھلاڑیوں کے ساتھ زیادتی کا امکان ختم ہو اور پورا طریقہ کار شفاف رہے۔ عاقب جاوید نے بتایا کہ نیا نظام کھلاڑیوں کو انفرادی کارکردگی کے بجائے ٹیم کی کامیابی کی طرف لے جانے میں مدد دے گا، اور کھلاڑیوں کو اس فارمیٹ کے بارے میں پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا کہ جدید کرکٹ میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں اور یہ نیا فارمیٹ ٹیسٹ کرکٹ کے معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ڈاکٹر جاوید مغل کے مطابق کھلاڑیوں کی فٹنس کو عالمی معیار کے قریب لانا اور انہیں انجریز سے محفوظ رکھنا اس فیصلے کا بنیادی مقصد ہے۔ نئے سینٹرل کنٹریکٹس کا یہ نظام رواں سال سے نافذ کیا جائے گا، اور توقع ہے کہ اس سے پاکستان کرکٹ میں کارکردگی پر مبنی کلچر کو فروغ ملے گا۔
