امریکا، ایران مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز پر اختلافات شدت اختیار کر گئے

سوئٹزرلینڈ میں امریکا، ایران مذاکرات کا آغاز، آبنائے ہرمز بڑا اختلافی نکتہ بن گیا

سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام برگن اسٹاک میں امریکا اور ایران کے وفود کے درمیان مذاکرات کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جبکہ ایرانی جانب سے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہیں۔

اس موقع پر پاکستان نے ثالث کا کردار ادا کیا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر شریک ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی موجودگی کو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کا بنیادی مقصد 60 روزہ فریم ورک کے تحت طے پانے والے وسیع تر معاہدے کی تکنیکی تفصیلات کو حتمی شکل دینا ہے۔ عبوری معاہدے میں جنگ بندی کے علاوہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور جوہری پروگرام سے متعلق یقین دہانیاں شامل بتائی جاتی ہیں۔

تاہم گفتگو کے دوران آبنائے ہرمز کا معاملہ سب سے بڑا اختلافی نکتہ بن کر سامنے آیا۔ ایران نے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے موقف اپنایا ہے کہ بحری آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے اور ایران کو اس آبی گزرگاہ پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کا تنازع حل ہوئے بغیر کسی جامع معاہدے تک پہنچنا مشکل ہو گا، کیونکہ یہ خطے کی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ مذاکرات کے اگلے دور کی تفصیلات بعد میں سامنے آنے کا امکان ہے۔

Related posts

ہائی جیکنگ کا الارم کاک پٹ میں دونوں پائلٹس کے درمیان لڑائی کا نتیجہ نکلا

ایران کو سات روزہ اعتماد سازی منصوبے پر امریکی ردعمل موصول

طیارے میں تقریباً 180 اسرائیلی مسافر سوار تھے