دمشق میں فرانسیسی صدر میکرون کے قیام کے قریب دھماکے، کوئی گروہ ذمہ داری قبول نہ کرسکا
شام کے دارالحکومت دمشق میں منگل کے روز دو زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد علاقے میں سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر ناکہ بندی کر دی۔ دھماکے اس ہوٹل کے قریب ہوئے جہاں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اپنے دورۂ شام کے دوران قیام پذیر تھے۔ فرانسیسی صدارتی دفتر الیزے پیلس نے واضح کیا کہ میکرون نے دھماکوں کی آواز نہیں سنی اور وہ اس وقت شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔
سکیورٹی حکام کے مطابق دھماکے وزارتِ سیاحت کی عمارت کے قریب اور اس ہوٹل کی جانب بھی ہوئے جہاں فرانسیسی صدر کا قیام تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک دھماکہ ہوٹل کے قریب کھڑی گاڑی میں نصب دھماکہ خیز مواد سے ہوا۔ سڑکیں بند کر دی گئیں اور سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری علاقے میں تعینات کر دی گئی۔ کسی جانی یا مالی نقصان کی حکومتی سطح پر تاحال تصدیق نہیں ہوئی، تاہم مقامی میڈیا نے دھواں اٹھنے اور ایک گاڑی میں آگ لگنے کی اطلاع دی ہے۔ کسی گروہ نے اب تک ذمہ داری قبول نہیں کی۔
میکرون کا یہ دورہ کسی مغربی یورپی سربراہِ مملکت کا شامی صدر احمد الشرع کی حکومت کے قیام کے بعد پہلا دورہ ہے۔ فرانسیسی صدارتی دفتر نے واضح کیا ہے کہ میکرون کا شیڈول تبدیل نہیں ہوا اور دورہ اپنے مقررہ پروگرام کے مطابق جاری ہے۔ خیال رہے کہ چند روز قبل بھی دمشق میں عدالتِ عالیہ کے قریب ایک کیفے میں دھماکہ ہوا تھا جس میں دس افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوئے تھے۔
