امریکی صدر ٹرمپ کا ایران پر حملے روکنے کا حکم، مقاصد حاصل نہ ہوئے تو کارروائی دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فضائی کارروائیاں ایک روز کے لیے روکنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے جاری مذاکرات میں پیشرفت دیکھی گئی ہے۔
امریکی صدر نے دو ہفتے سے جاری تہران کے خلاف حملوں کو معطل کرنے کا حکم دیا، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو جنگ دوبارہ شروع کی جائے گی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر سو فیصد مقاصد حاصل نہ ہوئے تو کارروائی دوبارہ عمل میں لائی جائے گی۔
امریکی میڈیا کے مطابق جمعے کے روز ایران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، اور صدر ٹرمپ نے سفارتکاری کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ حکم اس وقت جاری ہوا جب ایک اومانی وفد مذاکرات کے لیے جمعے کو ایران پہنچا، مقصد آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے نیا معاہدہ طے کرنا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اور اومان کے درمیان اس معاملے پر اسی ہفتے معاہدہ طے پانے کا امکان ہے۔ اس کے بعد فیصلہ صدر ٹرمپ پر ہوگا کہ آیا وہ مجوزہ ڈیل کی منظوری دیتے ہیں یا نہیں۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ کرتے ہوئے بتایا کہ کارروائی میں 17 امریکی ڈرون طیارے تباہ کیے گئے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ہینگر میں کھڑا ایک ایف 15 لڑاکا طیارہ اور ایک پی 8 طیارہ بھی نشانہ بنا۔ ان کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک سی 17 ٹرانسپورٹ طیارہ اور آٹھ ری فیولنگ طیارے بھی حملوں میں تباہ ہوئے۔
