روم: Kay News Urdu
اٹلی کی پولیس نے حماس کے لیے لاکھوں یورو جمع کرنے کے الزام میں نو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے دو سال سے زائد عرصے میں تقریباً سات ملین یورو جمع کیے جو بظاہر فلسطینی شہریوں کے لیے انسانی امداد کے نام پر اکٹھے کیے گئے، مگر درحقیقت یہ رقم ایک منظم اور خفیہ نیٹ ورک کے ذریعے حماس کے عسکری ونگ تک منتقل کی جاتی رہی۔
اطالوی حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران گرفتار افراد کے آٹھ ملین یورو سے زائد مالیت کے اثاثے بھی ضبط کر لیے گئے ہیں۔ ملزمان پر دہشت گرد تنظیم کو مالی معاونت فراہم کرنے اور بین الاقوامی دہشت گردی میں سہولت کاری کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
انسدادِ دہشت گردی پولیس کی مشترکہ کارروائی
یہ کارروائی اٹلی کی انسدادِ دہشت گردی پولیس اور مالیاتی پولیس کے مشترکہ آپریشن کے تحت عمل میں آئی۔ تفتیش کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے حملے کے بعد کیا گیا تھا، جس کے بعد یورپ بھر میں مشکوک مالی سرگرمیوں کی نگرانی سخت کر دی گئی تھی۔
جینوا سے چلنے والا منظم فنڈ ریزنگ نظام
پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ مالی لین دین سے متعلق متعدد رپورٹس کے تجزیے کے بعد جینوا میں قائم ایک منظم فنڈ ریزنگ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ:
- غزہ کی شہری آبادی کے لیے جمع کیے گئے عطیات
- 71 فیصد سے زائد رقم
- براہِ راست حماس کے عسکری ونگ کو منتقل کی گئی
یہ رقم مبینہ طور پر:
- خودکش حملہ آوروں
- دہشت گردی کے الزام میں گرفتار افراد
- اور ان کے اہلِ خانہ
کی مالی معاونت کے لیے استعمال کی جاتی رہی۔
قانونی کارروائی جاری
اطالوی حکام کے مطابق گرفتار افراد سے مزید تفتیش جاری ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نیٹ ورک سے منسلک مزید افراد کو بھی حراست میں لیا جا سکتا ہے۔ یورپی یونین کی انسدادِ دہشت گردی ایجنسیاں بھی اس کیس کی نگرانی کر رہی ہیں۔
