دبئی: متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ مزید کسی ایران اور امریکا کے درمیان جنگ یا محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کو امریکا کے ساتھ جوہری معاہدے تک پہنچنا چاہیے تاکہ خطے میں مستقل کشیدگی کا خاتمہ ہو سکے۔
دبئی میں ورلڈ گورنمنٹس سمٹ کے ایک پینل سے خطاب کرتے ہوئے انور قرقاش کا کہنا تھا کہ خطہ پہلے ہی تباہ کن تنازعات سے گزر چکا ہے اور اب کسی نئی جنگ کی گنجائش نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات ہونے چاہئیں تاکہ روز بروز ابھرتے بحرانوں سے بچا جا سکے۔
ادھر ایرانی اور امریکی حکام کے مطابق دونوں ممالک جمعے کو ترکی کے شہر استنبول میں جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کریں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکی جنگی بحری جہاز ایران کے قریب موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات کریں گے، جن کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام پر طویل عرصے سے جاری تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنا اور ممکنہ علاقائی جنگ کے خدشات کو کم کرنا ہے۔
ایک علاقائی سفارتکار نے بتایا کہ ان مذاکرات میں سعودی عرب، مصر سمیت دیگر علاقائی ممالک کے نمائندوں کی شرکت بھی متوقع ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف حالیہ سخت کارروائیوں اور امریکی بحری موجودگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔
