پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک رُکن اسمبلی نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی آنکھ کی بیماری کے حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کے رہنما کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔
پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی سردار لطیف کھوسہ نے اپنی درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو ہسپتال منتقل کرکے ماہر امراض چشم کے ذریعے ان کی آنکھ کا معائنہ کروایا جائے۔
اس درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور عاصم یوسف کو بھی عمران خان تک رسائی دی جائے۔
اس سے قبل عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کو عمران خان کی صحت کے بارے میں سخت تشویش لاحق ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پمز میں جن ڈاکٹروں نے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کیا ہے وہ میڈیا پر آکر گفتگو کیوں نہیں کرتے اور عمران خان کی صحت کے بارے میں کیوں نہیں بتاتے؟
علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے بارے میں فیصلہ کرنا پارٹی کا نہیں بلکہ ان کے خاندان کا اختیار ہے اور مستقبل میں ان کے علاج سے متعلق کوئی بھی فیصلہ خاندان کی اجازت کے بغیر نہیں ہوگا۔
سابق وزیرِ اعظم کی بہن کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق پی ٹی آئی نے جو بھی فیصلہ کیا اسے خاندان سے چھپایا گیا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے ذریعے انہیں معلوم ہوا کہ بیرسٹر گوہر جیل جار ہیں لیکن بیرسٹر گوہر نے کچھ نہیں بتایا۔
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ وزیر داخلہ نے گفتگو کے دوران کہا کہ وہ (علیمہ خان) عمران خان کے علاج میں رکاوٹ ہیں، تاہم پارٹی کی جانب سے اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
