Kay News Urdu
Advertisement
  • اہم ترین
  • پاکستان
  • دنیا
  • نقطہ نظر
  • شوبز
  • کھیل
  • کشمیر
  • کاروبار
  • صحت
  • سائنس
  • ویڈیوز
  • اہم ترین
  • پاکستان
  • دنیا
  • نقطہ نظر
  • شوبز
  • کھیل
  • کشمیر
  • کاروبار
  • صحت
  • سائنس
  • ویڈیوز
No Result
View All Result
Kay News Urdu
No Result
View All Result
Home نقطہ نظر

“قیادت جب خدمت بن جائے — لاہور کی نئی کہانی”

Shakeela Fatima by Shakeela Fatima
مارچ 1, 2026
in نقطہ نظر
0 0
0
اختیار نہیں، خدمت: لاہور کی نئی انتظامیہ اور عوامی درد کا شعور
0
SHARES
33
VIEWS

رمضان المبارک صرف عبادت، صبر اور ایثار کا مہینہ نہیں بلکہ یہ حکمرانی اور عوامی خدمت کا امتحان بھی ہوتا ہے۔ اس مہینے میں سب سے بڑا سوال یہی ہوتا ہے کہ کیا عام آدمی کو ریلیف مل رہا ہے؟ کیا حکومت مہنگائی کے بوجھ تلے دبے طبقے کے لیے آسانیاں پیدا کر پا رہی ہے؟

اس سال حکومت کی جانب سے رمضان دسترخوان اور سبزیوں کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا اقدام یقیناً ایک مثبت قدم کے طور پر سامنے آیا ہے۔ میں نے مختلف طبقہ ہائے فکر سے بات کی — دیہاڑی دار مزدور، سرکاری ملازم، گھریلو خواتین، دکاندار اور نوجوان طلبہ — اکثر نے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ کم از کم سبزیوں کی قیمتیں واقعی کنٹرول میں دکھائی دے رہی ہیں۔

بازاروں میں جا کر دیکھا جائے تو ٹماٹر، آلو، پیاز اور ہری سبزیوں کی قیمتوں میں استحکام نظر آتا ہے۔ رمضان بازاروں میں سرکاری نرخ نامے آویزاں ہیں اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی متحرک دکھائی دیتا ہے۔ یہ سب کسی ایک دن کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہے۔

تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ کچھ لوگوں نے شکوہ کیا کہ سبزیوں کے ساتھ ساتھ پھلوں کی قیمتوں پر بھی توجہ دی جانی چاہیے تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ افطار دسترخوان میں پھل بنیادی جزو ہوتے ہیں لیکن ان کی قیمتیں اب بھی متوسط اور غریب طبقے کی پہنچ سے باہر ہیں۔ ایک مزدور نے مجھ سے کہا:
“بی بی! سبزی تو لے لیتے ہیں مگر سیب، کیلا اور انگور بچوں کی ضد پر بھی نہیں لے سکتے۔”

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ جب تک پھلوں کی قیمتوں میں بھی واضح کمی نہیں آئے گی مکمل ریلیف کا دعویٰ ادھورا رہے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ سبزیوں کی طرح پھلوں کی قیمتوں پر بھی موثر کنٹرول کا نظام بنائے تاکہ عام آدمی کی پہنچ میں آئیں۔


چند روز قبل میرا لاہور جانا ہوا۔ لاہور جو صرف ایک شہر نہیں بلکہ سیاسی، سماجی اور صحافتی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ وہاں اپنے استاد محترم مجیب شامی اور سینئر تجزیہ کار حفیظ نیازی سے ملاقات ہوئی۔ ان ملاقاتوں میں لاہور کے انتظامی معاملات زیرِ بحث آئے، خصوصاً نئے ڈی سی کی کارکردگی۔

گفتگو کا محور کیپٹن علی اعجاز تھے جو اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میرے اساتذہ نے ان کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ دن رات متحرک رہتے ہیں، شہر کے مختلف علاقوں کے دورے کرتے ہیں اور عوام کے مسائل براہِ راست سننے کی کوشش کرتے ہیں۔

میں نے بھی محسوس کیا کہ موجودہ حالات میں روایتی بیوروکریسی سے ہٹ کر ایک فیلڈ میں کام کرنے والا افسر ہی حقیقی تبدیلی لا سکتا ہے۔

شامی صاحب سے میرا تعلق محض صحافتی نہیں بلکہ ایک گھریلو اور بیٹی جیسا احترام کا رشتہ بھی ہے۔ زندگی کے مشکل دور، خاص طور پر بیماری کے ایام میں انہوں نے جس طرح حوصلہ افزائی اور مدد کی وہ میرے لیے ہمیشہ یادگار رہے گا۔ اسی بے تکلفی میں میں نے مذاقاً کہا:
“شامی صاحب! اب آپ بھی ریٹائر ہو جائیں، نوجوان نسل کو موقع دیں۔”
وہ مسکرائے اور بولے:
“آجاؤ دوبارہ اپنی پوزیشن سنبھالو، پہلے جیسی صحافت کرو۔ مسئلہ یہ ہے کہ تم خود اب فیلڈ میں کام نہیں کرنا چاہتیں۔”

ان کی بات میں محبت بھی تھی اور ایک چیلنج بھی۔


سچ تو یہ ہے کہ فیلڈ میں جا کر کام کرنا آسان نہیں۔ دن رات کی محنت، مسلسل دباؤ، تنقید اور ذمہ داری — یہ سب ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ مگر جب میں نے کیپٹن علی اعجاز کی مصروفیات دیکھیں — صبح سویرے بازاروں کا دورہ، افطار دسترخوان کی نگرانی، مخیر حضرات کے ساتھ میٹنگز، ترقیاتی منصوبوں کی فالو اپ — تو احساس ہوا کہ اگر نیت صاف اور جذبہ سچا ہو تو سرکاری عہدہ محض کرسی نہیں بلکہ خدمت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

رمضان بازاروں میں قیمتوں کا کنٹرول، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائیاں اور افطار دسترخوانوں کا انعقاد دراصل ایک مربوط پالیسی کا حصہ ہیں۔ اس میں صوبائی قیادت کا کردار بھی اہم ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی ٹیم میں ایسے افسران کو شامل کیا جو محنتی اور قابل ہونے کی شہرت رکھتے ہیں۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ کیپٹن علی اعجاز مختلف ادوارِ حکومت میں کام کر چکے ہیں جن میں شہباز شریف، پرویز الٰہی اور عثمان بزدار شامل ہیں۔ یہ تسلسل اس بات کی علامت ہے کہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مختلف سیاسی قیادتوں نے تسلیم کیا۔


یہ سب دیکھ کر ایک امید سی جاگتی ہے کہ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو ہمارے شہر بھی بین الاقوامی معیار کی مثال بن سکتے ہیں۔
تاہم تنقیدی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پھلوں کی قیمتوں کا مسئلہ اب بھی حل طلب ہے۔ مستقل بنیادوں پر مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے جامع زرعی پالیسی، سپلائی چین کی بہتری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔


اختتامیہ

لاہور کی گلیوں میں رمضان بازاروں کی رونق دیکھتے ہوئے یہ یقین مضبوط ہوتا ہے کہ نیت اور محنت کا امتزاج ہو تو حالات بدل سکتے ہیں۔

رمضان کا اصل پیغام بھی یہی ہے — خدمت، دیانت اور احساس۔
اگر یہ تینوں عناصر حکمرانی کا حصہ بن جائیں تو تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔

Tags: Captain Ali EjazGovernance ModelInflation ControlLahoreMaryam NawazPakistan PoliticsPublic ReliefPunjab GovernmentRamzan BazaarYouth Leadership
Shakeela Fatima

Shakeela Fatima

Recent Posts

  • یوم آزادی پر مسلح افواج کا قوم کے نام پیغام، شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت
  • منچن آباد پولیس کی کارروائی، چار ملزمان قابو، منشیات اور اسلحہ برآمد
  • چپورسن میں زلزلے کے تسلسل نے مکینوں کو ایک بار پھر خوفزدہ کردیا
  • سعودی کابینہ کا مکہ دفاعی معاہدے کو تینوں ممالک کے تعلقات میں سنگ میل قرار دینا
  • پاکستان کا اسرائیلی اقدامات پر سلامتی کونسل میں کڑی تنقید

Recent Comments

  1. Rana Muhammad Aslam Khan از “خصوصی بچوں کے لیے امید، وقار اور مواقع — لاہور میں ایک نئے دور کا آغاز”
  2. Georgia Waltrip از One swallow does not make the spring
  3. Michael Eubanks از Persuasion is often more effectual than force
  4. Ernest Baker از Spieth in danger of missing cut
  5. Edward Huckaby از Hibs and Ross County fans on final

Archives

  • اگست 2026
  • جولائی 2026
  • جون 2026
  • مئی 2026
  • اپریل 2026
  • مارچ 2026
  • فروری 2026
  • جنوری 2026
  • دسمبر 2025

Categories

  • Apps
  • Business
  • Entertainment
  • Fashion
  • Food
  • Gadget
  • Gaming
  • Health
  • Lifestyle
  • Mobile
  • Movie
  • Music
  • News
  • Politics
  • Review
  • Science
  • Sports
  • Startup
  • Tech
  • Travel
  • Uncategorized
  • World
  • اداریہ
  • اہم ترین
  • ایران اور اسرائیل
  • پاکستان
  • ٹیکنالوجی
  • دنیا
  • سائنس
  • ستاروں کا حال
  • شوبز
  • صحت
  • کاروبار
  • کشمیر
  • کھیل
  • مختصر ویڈیوز
  • نقطہ نظر
Kay News Urdu

© 2026 Kay News Urdu. All Rights Reserved.

Navigate Site

  • اہم ترین
  • پاکستان
  • دنیا
  • نقطہ نظر
  • شوبز
  • کھیل
  • کشمیر
  • کاروبار
  • صحت
  • سائنس
  • ویڈیوز

Follow Us

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • اہم ترین
  • پاکستان
  • دنیا
  • نقطہ نظر
  • شوبز
  • کھیل
  • کشمیر
  • کاروبار
  • صحت
  • سائنس
  • ویڈیوز

© 2026 Kay News Urdu. All Rights Reserved.

Are you sure want to unlock this post?
Unlock left : 0
Are you sure want to cancel subscription?