اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ جنگ بندی مذاکرات سے قبل ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے اہم سفارتی عمل غیر یقینی کا شکار ہو گیا ہے۔
امریکی وفد ہفتے کے روز متوقع مذاکرات کے لیے روانہ ہو چکا ہے جبکہ ایرانی وفد پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر Mohammad Bagher Ghalibaf نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات سے قبل دو اہم شرائط پوری کرنا ضروری ہیں:
- لبنان میں فوری جنگ بندی
- ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی
انہوں نے خبردار کیا کہ ان نکات پر عمل نہ ہونے کی صورت میں مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی متاثر ہو سکتے ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اس کی شرائط پر اختلافات برقرار ہیں، خاص طور پر یہ کہ آیا یہ جنگ بندی لبنان میں جاری کارروائیوں پر بھی لاگو ہوتی ہے یا نہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر Donald Trump نے ایک بار پھر سخت مؤقف اپناتے ہوئے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکا جدید ہتھیاروں کے ساتھ کارروائی کرے گا۔
ادھر ایرانی عسکری قیادت نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی “انگلیاں ٹریگر پر ہیں” اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں فوری جواب دیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ہو سکتے ہیں، تاہم موجودہ کشیدگی اور باہمی عدم اعتماد اس عمل کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
