ایکسپلینر — ذوہیب علی
امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی کا اعلان خطے میں ایک بڑے عسکری اور سفارتی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام محض ایک محدود فوجی حکمت عملی نہیں بلکہ ایک طویل اور پیچیدہ جنگی مہم کا آغاز ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، ایران کے لیے ایک اسٹریٹیجک ہتھیار کی حیثیت رکھتی ہے۔ امریکہ کی کوشش ہے کہ اس راستے کو مکمل طور پر کھول کر ایران کے اس اثر کو ختم کیا جائے، تاہم اس کے لیے وسیع بحری طاقت اور مسلسل فوجی موجودگی درکار ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی ناکہ بندی بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی اقدام تصور کی جا سکتی ہے، جس سے ایران کی جانب سے فوری اور سخت ردعمل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ کسی بھی جارحانہ قدم کے جواب میں نہ صرف بحری راستوں بلکہ خطے میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر امریکہ نے تجارتی جہازوں کو روکنے یا ضبط کرنے کی کوشش کی تو اس سے چین، بھارت اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ ان ممالک کی توانائی ضروریات بڑی حد تک اسی راستے سے پوری ہوتی ہیں۔
دوسری جانب، ایران کی ممکنہ حکمت عملی میں آبنائے ہرمز کو مزید محدود کرنا، بحری بارودی سرنگوں کا استعمال، یا خلیجی ممالک میں توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا شامل ہو سکتا ہے۔ اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف جنگ کو وسعت دے سکتی ہیں بلکہ عالمی تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ بھی کر سکتی ہیں۔
اگرچہ امریکہ اس اقدام کے ذریعے ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنا چاہتا ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس بھی جا سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں کسی بھی فوجی پیش رفت سے جاری جنگ بندی مزید کمزور ہو سکتی ہے اور سفارتی عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس بحران کا پائیدار حل صرف سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ طویل المدتی استحکام کے لیے عالمی طاقتوں کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی، کیونکہ یکطرفہ اقدامات خطے کو ایک وسیع اور غیر یقینی جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
