ایران پر حملہ پاکستانی شخصیات کی درخواست پر روکا، وہ ایران کے بہت قریب ہیں: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران پر فیصلہ کن حملہ پاکستان کے بعض اہم افراد کی درخواست پر روکا گیا۔ امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ یہ شخصیات ایران کے بہت قریب ہیں اور انہوں نے کہا کہ “کیا آپ رُک سکتے ہیں، ہم ڈیل کرادیں گے۔”
ٹرمپ نے ایران کے بارے میں کہا کہ ہر بار جب بات چیت ہوتی ہے تو اگلے دن ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی بات ہوئی ہی نہیں۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ ایران کے ساتھ معاملہ کرنا مشکل ہے۔
چین سے واپسی پر ایئرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ بنیادی طور پر جنگ بندی کے حق میں نہیں تھے، مگر دوسری اقوام کے اصرار پر جنگ بندی کی۔ انہوں نے اسے پاکستان پر ایک نوازش قرار دیا۔
اس موقع پر ٹرمپ نے ایک بار پھر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی اور دونوں کو شاندار شخصیات قرار دیا۔
وائٹ ہاؤس واپسی پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے دورہ چین کو کامیاب اور تاریخی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ اہم تجارتی معاہدے طے پائے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہیں۔
ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ٹرمپ نے کہا کہ انہیں 20 سال کے لیے اس پروگرام کی معطلی پر اعتراض نہیں، تاہم ایران کا عزم حقیقی ہونا چاہیے۔ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات میں جوہری ہتھیاروں میں کمی اور تائیوان کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ٹرمپ کے مطابق تائیوان سے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور فی الحال تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے کی منظوری نہیں دی گئی۔
