امریکا کے دسویں روز بھی ایران پر حملے، تہران کا خلیج میں امریکی اڈوں پر جوابی وار کا دعویٰ
امریکا نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں مسلسل دسویں روز بھی جاری رکھیں۔ تازہ حملوں میں جزیرہ قشم، بندرعباس، چابہار، کنارک اور شیراز کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں فوجی کمانڈ مراکز، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس امریکی فورسز کا ہدف بنیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ ایران کے خلاف ایک اور مرحلہ وار کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔ بیان کے مطابق ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، بحری صلاحیتوں، میزائل و ڈرون لانچ سائٹس اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹکام نے واضح کیا کہ اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔ ادارے کے مطابق مئی کے آغاز سے اب تک آبنائے ہرمز میں تقریباً 900 تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا گیا، جبکہ 45 کروڑ بیرل خام تیل کی ترسیل میں بھی مدد دی گئی۔
دوسری جانب پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت میں احمد الجابر، عریفجان اور علی السالم ایئر بیسز پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی فورسز کے مطابق ان حملوں میں امریکی میزائل سسٹم اور ایم کیو-9 ڈرون ہینگر تباہ کر دیے گئے۔ بحرین کے علاقے محرق میں بھی امریکی پیٹریاٹ دفاعی نظام، ریڈار اور ایئر ڈیفنس سسٹم کو حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں سے جاری اس جنگ میں تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ان میں سے 96 فیصد زخمی فوجی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب امریکا نے جمعے کے روز ایرانی حملے میں ہلاک ہونے والے دو فوجیوں کی شناخت بھی ظاہر کی۔
اس سے قبل پینٹاگون نے صرف یہ بتایا تھا کہ 28 فروری سے اب تک اس تنازع میں 14 امریکی فوجی ہلاک اور 427 زخمی ہو چکے ہیں۔
