ہنزہ میں زلزلے کے جھٹکے، لینڈ سلائیڈنگ سے رابطہ سڑک بند
ہنزہ کے علاقے چپورسن میں آج صبح زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے بعد رمنجی کے قریب لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور متعدد مکانات کو نقصان پہنچا۔ مقامی حکام کے مطابق زلزلے سے فی الحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
چپورسن میں کل رات سے چار مختلف اوقات میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جبکہ صبح ریکارڈ کیے گئے جھٹکے کی شدت 4.8 بتائی گئی۔ ان جھٹکوں سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ سوست میں بھی متعدد گھروں کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔
گلگت بلتستان کی وادی چپورسن کئی ماہ سے مسلسل خطرناک زلزلوں کی زد میں ہے، جس کے باعث بعض مقامی افراد اپنی جانیں محفوظ بنانے کے لیے دیگر علاقوں کی جانب ہجرت کر چکے ہیں۔
پاک افغان سرحد سے متصل واخان کوریڈور کے قریب واقع یہ وادی 19 جنوری 2026 کو ایک شدید زلزلے کی زد میں آئی تھی، جب لوگوں نے گھروں سے بھاگ کر جان بچائی۔ اس زلزلے سے کئی مکان منہدم ہوگئے تھے اور وادی کی طرف جانے والی واحد کچی سڑک بھاری لینڈ سلائیڈنگ سے بند ہوگئی تھی۔
محکمہ موسمیات اور جیالوجیکل سروے آف پاکستان کے مطابق اس علاقے میں جاری زلزلے فالٹ لائن کا حصہ ہیں، اور ان کے جھٹکے پورے گلگت بلتستان میں محسوس کیے جاتے رہے ہیں۔ ادارے کی رپورٹس کے مطابق ان زلزلوں کی شدت 4.5 سے 5.4 کے درمیان ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین نے فالٹ لائن کے ساتھ گلیشیئرز کی زیر زمین حرکات کو بھی ان زلزلوں کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔ مہینوں سے جاری زلزلوں کے باعث متاثرہ علاقے کے بیشتر مکین آج بھی وادی چھوڑ کر دیگر علاقوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
